اصحاب احمد (جلد 12) — Page 88
88 ساری گھبراہٹ اور بے چینی ، اپنی بیماری دور ہوتی پاتا۔اللہ تعالیٰ ان کے مرقد پر اپنے انوار کی بارش نازل فرما دے اور وہ کچھ ان کو دے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کیلئے چاہتے تھے۔ان کو سب کچھ حاصل تھا اس لئے میں اپنی زبان میں کیا دعا ان کیلئے کر سکتا ہوں۔پھر اپنی والدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا شکریہ ادا کرنے کیلئے الفاظ نہیں پاتا انہوں نے میری محبت میں ایک سال نہایت تکلیف اور بے آرامی میں میرے کمرے میں گزارا۔ہر قسم کے آرام و آسائش کو چھوڑ کر میرے آرام میں لگی رہیں۔نہ صرف یہ کیا بلکہ جماعت میں جو مضطر بانہ اور بیقراری کا جذ بہ دعا کیلئے پیدا ہوا۔زیادہ یہ انہی کی تحریک کا نتیجہ تھا۔ان کی رباعیات نے جماعت میں ایک ہلچل مچادی۔ایسا ولولہ پیدا کر دیا کہ اہل بیت مسیح موعود سے محبت رکھنے والے انہی کے رنگ مادرانہ محبت میں رنگین ہو گئے۔اضطراب اور بیتابی سے دعا کرتے تھے۔اب میں یہاں اگر اپنی بیوی حضرت دخت کرام امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا ذکر نہ کروں تو نہایت ناشکری اور ظلم ہوگا۔یہ نور کا ٹکڑہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جگر گوشہ، جو کہ میرے پہلو کی زینت بنا ہوا ہے۔کسی خدمت اور کس نیکی کے عوض مجھے حاصل ہوا ہے۔اس بات کو سوچ کر میں ورطہء حیرت واستعجاب میں پڑ جاتا ہوں۔موجودہ زمانہ کا روحانی بادشاہ جَرِى اللَّهُ فِي حُلَلٍ الانبیاء اپنے لئے یہ خاکسارانہ الفاظ استعمال فرمائے۔میں آج تک اس کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہوں۔لیکن میرے جیسے ناچیز انسان کیلئے یہ حقیقت ہے۔میں اصل میں ان اشعار کا موردہوں سے کرم خا کی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو دے کر مجھے زمین سے اٹھا کر ثریا پر پہنچا دیا۔اس مہر و وفا کی مجسم نے جب میری بیماری کی اطلاع راولپنڈی میں پائی تو نہایت درجہ پریشانی کی حالت میں فور الا ہور پہنچیں یہ میری بیماری کی پہلی رات تھی۔اور ساری رات موٹر پر ان کو رہنا پڑا۔صبح چار بجے کے قریب لا ہور پہنچیں۔لیکن کیا مجال میرے پر اپنی گھبراہٹ کا اظہار ہونے دیا ہو۔پھر اس قدر تند ہی اور جانفشانی سے میری خدمت میں لگ گئیں کہ میں نہیں کہہ سکتا۔کوئی دوسری عورت اس قدر محبت اور پیار کے جذ بہ سے اپنے خاوند کی خدمت کر سکتی ہو۔اس اللہ تعالیٰ کی بندی نے اپنے اوپر آرام کو حرام کر لیا۔رات دن جاگتے ہوئے کاٹتی تھیں۔کمرہ تنگ تھا اس لئے دوسری چار پائی کمرہ میں کچھ نہیں سکتی تھی۔