اصحاب احمد (جلد 12) — Page 60
60 ایں سعادت بزور بازو نیست تا نه بخشد خدائے بخشنده یہ محض خدا تعالیٰ کے فضل کے نیچے حاصل ہوئی ہے۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ - یہ خدا کی عظیم الشان نعمت اور رحمت ہے اور ان کو نصیب ہوئی ہے۔جن کو خدا تعالیٰ نے حجتہ اللہ فرمایا ہے۔اس سے میری مراد حضرت نواب صاحب ہیں۔حضرت مسیح موعود کی ایک بیٹی جس کے گھر جائے۔اس کو کس قدر سعادت ہے لیکن بتاؤ کہ اس کی سعادت کا کس طرح اندازہ کیا جاسکتا ہے۔کہ جس کی طرف حضرت مسیح موعود کی دوسری بیٹی بھی خدا تعالیٰ کا فضل لے جائے۔اگر ہزار ہاسلطنتیں اور بادشاہتیں بھی حضرت نواب صاحب کے پاس ہو تیں اور انہیں آپ قربان کر کے حضرت مسیح موعود کا دیدار کرنا چاہتے تو ارزاں اور بہت ارزاں تھا۔لیکن اب تو انہیں خدا تعالیٰ کا بہت ہی شکر کرنا چاہئے کہ انہیں خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نبی کی بیٹی مل گئی ہے اور دوسری بیٹی بھی ان ہی کے صاحبزادے کے نکاح میں آئی ہے۔نکاح پندرہ ہزار روپیہ مہر پرمحمد عبد اللہ خاں صاحب سے ہوا۔“ ( الفضل 21 جون 1915 ء) زریں نصائح نئی ذمہ داریوں کو اختیار کرنے کے موقع پر نواب صاحب نے ذیل کی قیمتی نصائح تحریر کیں :۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ یا اپنی سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم اب تک تم اور زندگی میں تھے اور اب اور زندگی اختیار کرنے والے ہو اور نیا لم تمہیں سیکھنا ہے اس لئے چند امور کا لکھنا میں ضروری سمجھتا ہوں اور میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ تم کو بعض امور سے خبر دار کر دوں اب تمہاری شادی ہونے والی ہے اور تائیل کے جوئے میں آنے والے ہو۔دنیا کی گاڑی تاتل سے چلتی ہے۔جس میں میاں بیوی جوتے جاتے ہیں۔پس اگر ایک بیل کا ندھا ڈال دے تو گاڑی چلنا مشکل ہے۔اس لئے اس معاملہ میں خود کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔پہلے میں وہ تحریر کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ علیم وخبیر نے فرمایا ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کون ہمیں بتلا سکتا ہے۔اور پھر حضرت محمد مصطفیٰ سے بڑھ کر ہمارے لئے کون سا اُسوہ ہو سکتا ہے۔وَلَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ