اصحاب احمد (جلد 12) — Page 32
32 بیان میاں محمد عبداللہ خان صاحب حضرت والد صاحب ہماری تعلیم و تربیت کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔ریاست میں ہر ایک کیلئے علیحدہ علیحدہ ایک خادم تھا۔جب قادیان آئے تو ہمارے حسب منشاءٹرینڈ خادم نہیں ملتے تھے۔اس لئے ہم چاروں بہن بھائیوں پر ایک خادم رکھا گیا۔جو با قاعدہ ہمیں سیر کرانے (لے ) جا تا۔غسل وغیرہ کا انتظام کرتا۔ناشتہ اور کھانے کا باقاعدہ اہتمام ہوتا تھا۔یہاں حضرت پیر منظور محمد صاحب کو کافی مشاہرہ پر رکھا۔جنہوں نے ہمیں قاعدہ یسرنا القرآن اور بعد میں قرآن مجید ناظرہ پڑھایا۔اسی سلسلہ میں حضرت والد صاحب نے ان کو ان کا مکان بنوا کر دیا تھا۔حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب۔۔۔۔۔کو ہمارے لئے ٹیوٹر رکھا جو ہماری ورزش کا خیال رکھتے تھے۔ہمیں میروڈ بہ کھیلنے کیلئے لے جاتے جس میں اکثر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور کبھی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب۔۔۔۔۔بھی شامل ہو جاتے تھے۔ہمیں بھائی جی جغرافیہ حساب وغیرہ مضامین اور حضرت حافظ روشن علی صاحب قرآن مجید با تر جمہ پڑھاتے۔شہر کے مکان میں ہمیں ایک علیحدہ کمرہ دیا ہوا تھا اور ہمارا ٹیوٹر ہمارے ساتھ رہتا تھا۔والد صاحب اس بات کا خاص اہتمام کرتے تھے کہ ہم عام لڑکوں سے مل کر اپنے اخلاق علی خان صاحب کے صاحبزادہ زریں لباس سے ملبس حضور کی خدمت میں نیاز مندانہ طریق پر حاضر ہوئے آپ نے ان کو اپنے پاس جگہ دی۔ان کو اس ہیئت میں دیکھ کر خدا کے برگزیدہ نے بڑی سادگی سے جناب نواب صاحب سے دریافت کیا کہ ان کی کیا رسم ادا ہونی ہے۔نواب صاحب نے جواب دیا کہ آمین ہے۔اس اثناء میں ایک سروپا کا تھال آیا۔اور وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے روبرو دھرا گیا۔چندلحہ کے بعد پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اب آگے کیا ہونا ہے عرض کی گئی کہ اسے دست مبارک لگا دیا جائے اور دعا فرمائی جاوے۔چنانچہ حضور نے ایسا ہی کیا اور پھر فوراً تشریف لے گئے۔البدر 8 جنوری 1904ءص2) ( حاشیہ در حاشیه ) صاحبزادہ کا لفظ سہو ا درج ہے۔صفحہ ے پر مرقوم ہے کہ دو صاحبزادوں کی آمین تھی۔نیز مزید مرقوم ہے کہ خوشی میں 3 دن تک بتدریج دعوت کا سلسلہ رہا۔اور بتدریج احباب ایک ایک وقت کا کھانا تناول فرماتے رہے۔الحکم والبدر میں صاحبزادگان کے اسماء درج نہیں لیکن جیسا کہ آگے ذکر آتا ہے میاں محمد عبداللہ خان صاحب اور میاں عبدالرحیم اکٹھے تعلیم پاتے تھے۔اور ہر دو کو حفظ قرآن بھی شروع کر وایا گیا تھا۔