اصحاب احمد (جلد 12) — Page 209
209 جاتا۔اور اسی وقت آپ منع کرتے اور پھر نہایت محبت سے سمجھاتے کہ تم حضرت مسیح موعود کے خاندان سے وابستہ ہو۔تمہاری عزت اپنی نہیں۔حضرت مسیح موعود کی عزت ہے اس لئے اپنے اندر ہر خوبی اور اچھائی پیدا کرو۔آپ کے سینہ میں نہایت محبت کرنے والا دل تھا۔اس لئے جب بھی ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا تو اس کی تمام تیمار داری آپ ہی کرتے۔چند سال قبل جب امی جان کے پیٹ کا آپریشن ہوا تو باوجود اپنی بیماری کے ان کی بہت خدمت کی۔سوائے دو پہر کے ایک دو گھنٹہ کے آپ سار دن ان کے پاس رہتے۔اور ان کی تمام ادویہ، پھل وغیرہ ہر چیز موٹر میں جا کر خودخرید کے لاتے۔وہ وقت ابا جان اور ہم پر قیامت بن کے گزر رہا تھا۔بار بار خون جاری ہونے کی وجہ سے امی سخت خطرہ میں اور بہت کمزور تھیں۔اور دوسری طرف میرے ابا جان کا بیمار اور کمزور دل امی کیلئے غم اور اندیشوں میں گھرا ہوا تھا۔ابا جان مجسم دعا تھے ہمیں کہتے دعا کرو اللہ تعالیٰ تمہاری امی کو بچالے۔جب امی اپریشن روم میں ہوتیں ابا جان سجدہ میں گرے ہوتے اور ہمیں ایک طرف امی کا فکر اور ساتھ ہی دوسری طرف ابا جان کا۔ہم ابا جان کو بار بار کورامین اور گلو کوز دیتے اور تسلی دیتے۔مگر ابا جان کیلئے تو امی ہی سب کچھ تھیں۔ان کے مغموم چہرے پر نظر پڑتی تو دل سہم جاتے۔آخر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور امی خطرہ سے باہر ہوگئیں۔مگر اس سخت خدمت و محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس دن امی ہسپتال سے آئیں اسی دن ابا جان کو دوبارہ شدید حملہ ہوا اور آپ کو ہسپتال میں داخل کروانا پڑا۔مگر آپ کو اپنی کوئی پرواہ نہ تھی۔بار بار کہتے کہ میری جان کی قیمت ان کی جان کے مقابل کچھ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اس نے اپنی یہ نعمت میرے پاس رہنے دی۔اسی طرح جب بھی ہم بہن بھائیوں میں سے کوئی بیمار ہوتا۔تو تیمار داری بجائے امی کے ابا جان ہی کرتے۔میں ہمیشہ ہی بچہ کی پیدائش کے دوران سخت بیمار ہو جاتی تھی اور اس وقت ابا جان ہی میرا خیال رکھتے۔دن اور رات میں دوائی اپنے ہاتھ سے پلاتے ، غذا اپنے ہاتھ سے کھلاتے ، میرے لئے ہر وقت بے چین پھرتے ، ایک دفعہ آپ کو علم ہوا کہ میں دہلی میں بیمار ہوں۔میرے میاں کو فوراً لکھا کہ اسے قادیان لے آؤ۔میں نے ابا جان کی تکلیف کے خیال سے جانے سے انکار کر دیا۔سخت ناراض ہوئے مجھے تار دی کہ یہ میرا حکم ہے تم فوراً آ جاؤ۔ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گا۔اور میرے میاں کو لکھا کہ ایک گو پے ریزرو کروا کر اسے فوراً لے آؤ۔آمد و رفت کا کرایہ میں خود دوں گا اور