اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 207 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 207

207 طاہرہ دے دو۔یہ سنتے ہی فوراً بغیر کسی سوال کے میں نے عرض کیا۔اماں جان طاہرہ آپ کی ہے۔اور پھر میرے ابا جان کے اس اعتماد اور فرمانبرداری نے مجھے اپنی پیاری اماں جان کی جو کہ مجھ سے پہلے ہی بے حد پیار کرتی تھیں، دوہری محبت دلا دی۔اور میری اماں جان نے ہمیشہ ہی میرے ابا جان کے اس جذبہ کی بے حد قدر کی اور قدم قدم پر میرا خیال رکھا اور ہمیشہ میرے لئے خاص دعا کی اور میری بری اور جہیز کا اکثر سامان بھی آپ نے بنایا۔اکثر سامان تو تقسیم ملک کے وقت دہلی میں لٹ گیا۔باقی چیزوں پر جب میں ام المومنین لکھا دیکھتی ہوں تو میرا دل خوشی اور مسرت سے بھر جاتا ہے۔ابا جان کی ہی بدولت مجھے اماں جان کی خدمت نصیب ہوئی۔آپ کی وفات سے سات آٹھ ماہ پہلے میں نے ابا جان کو اپنا خواب سنایا کہ کوئی شخص کہہ رہا ہے اپنے خاوندوں سے طلاقیں لے کر حضرت اماں جان کی خدمت کرو۔اباجان نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے خاوندوں اور بچوں کی وجہ سے تم لوگ لاہور میں مقیم ہو اور حضرت اماں جان ربوہ میں قیام رکھتی ہیں۔اپنے میاں کو چھوڑ کر جا کر اماں جان کی خدمت کرنی چاہئے۔اس وقت تو آپ اچھی تھیں۔اس لئے زیادہ خیال نہ کیا۔اور اس لئے بھی کہ ان دنوں سیدی ماموں جان ( حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) کی بیٹی امتہ النصیر حضرت اماں جان کے پاس سوتی تھیں اور خدمت کرتی تھیں اب جبکہ ان کی شادی ہو رہی تھی تو ضروری تھا کہ کوئی اور خدمت کرنے والی پاس ہو۔ابا جان نے مجھے بلا کر فرمایا۔طاہرہ ! تم نے ایک دفعہ مجھے اپنا ایک خواب سنایا تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے اور تمہیں ربوہ جا کر حضرت امان جان کے پاس رہنا اور ان کی خدمت کرنی چاہئے۔تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوا ہے اگر تم نے یہ وقت گنوا دیا تو ساری عمر پچھتاؤ گی۔میں بیمار ہوں باوجود خواہش مند ہونے کے حضرت اماں جان کی میں خدمت نہیں کر سکتا اور مجھے بے حد خوشی ہوگی۔اگر تم اس وقت جا کر ان کے پاس رہو۔ان دنوں میرے میاں کا روبار کے تعلق میں عارف والہ میں مقیم تھے۔ابا جان نے باوجود اپنی بیماری کے میری لڑکی امتہ الحسیب کی ذمہ داری قبول کر لی۔کیونکہ بچی مدرسہ میں داخل تھی۔مجھے ربوہ بھجواتے ہوئے سخت تاکید کی کہ اماں جان کا پورا پورا خیال رکھنا آپ کی بیماری کے ان آخری ایام کے ثواب میں ابا جان کا بہت بڑا حصہ ہے۔حضرت رسول کریم علیہ فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ لَا هُلِہ اور میرے ابا جان اس کی