اصحاب احمد (جلد 12) — Page 19
19 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحَ الْمَوعُود ھوالناصر۔خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ حضرت میاں عبداللہ خاں صاحب آپ کے والد ماجد حضرت نواب محمد علی خان صاحب ( حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کے والد ماجد ) یکیم جنوری 1870ء کو پیدا ہوئے اور 10 فروری 1945ء کو وفات پا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار کے قرب میں مدفون ہوئے۔آپ نے ہمیں سال کی عمر میں گویا عین عنفوان شباب میں 19 نومبر 1890ء کو حضور کی بیعت کی توفیق پائی اور الاسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ ايا قابل رشک نمونہ دکھایا کہ ہمیں حدیث نبوی کے مطابق حَتَّى يُوضَعُ لَهُ الْقَبُوْلُ فِي الْأَرْضِ كَا منظر نظر آتا ہے۔چنانچہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے (حجتہ اللہ ) قرار دیا۔خاندانی حالات اور آپ کی سعادت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یورپ اور امریکہ میں اشاعت اسلام کے خواہاں تھے۔ازالہ اوہام میں آپ رقم فرماتے ہیں۔انہی براہین اور دلائل اور حقائق اور معارف کے شائع کرنے کیلئے قوم کی مالی امداد کی حاجت وو ہے کیا قوم میں کوئی ہے جو اس بات کو سنے۔“ (رسالہ فتح اسلام بھجوانے پر افسوس کہ بجز چند میرے مخلصوں کے جن کا ذکر میں عنقریب کروں گا۔کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی۔میں حیران ہوں کہ کن الفاظ کو استعمال کروں تا میری قوم پر وہ مؤثر ہوں۔میں سوچ میں ہوں کہ وہ کون سی تقریر ہے جس سے وہ میرے غم سے