اصحاب احمد (جلد 12) — Page 148
148 ہوگئی اور میں نے محسوس کیا کہ واقعی خدا تعالیٰ کے فرستادہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق فرزندی نصیب ہونا اسی کیفیت کا متقاضی ہے مگر میں نے عرض کیا کہ اس طرح بلا وجہ لاکھوں روپے کا نقصان ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔فرمانے لگے خواہ لاکھوں کا نقصان ہو۔میں تقویٰ اللہ کے خلاف کوئی اقدام کرنے کو تیار نہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ آپ کبھی کسی عدالت میں پیش نہ ہوتے تھے۔اور طبعی طور پر یہ ایسا رجحان تھا۔جو واقعی آپ کے شایان شان تھا اور نہ ہی کسی قسم کا تحریری بیان دینے پر خوش ہوتے تھے۔مگر حقیقی واقعات کی بناء پر بحث واستدلال کی تیاری میں خاکسار کے دفتر میں دو دو گھنٹے بیٹھ کر تعاون فرماتے تھے۔ایک اور وجد آفرین اور روحانیت آموز واقعہ یاد آیا۔ایک کیس کے سلسلہ میں آپ کے اہل بیت کا بیان عدالت کے مقرر کردہ اہل کمشن کے ذریعہ قلمبند کرانے کی ضرورت لاحق ہوئی اور معلوم ہوا کہ وہ بختی سے سچ بولنے پر عمل کرتی ہیں۔جب ان کو اشارہ یہ کہنے کی کوشش کی گئی کہ اس طرح آپ کے کسی عزیز کو نقصان ہو سکتا ہے اور ایسا بیان دینے میں کوئی حرج نہیں۔انہوں نے فرمایا کہ خواہ میرے کسی عزیز ترین عزیز کا لاکھوں روپیہ کا نقصان ہو جائے۔مگر میں کسی امر کے متعلق کوئی ایسا بیان دینے کو تیار نہیں کہ جس میں ذرہ بھی شک واشتباہ کا امکان پایا جائے۔صرف وہ بات کہ سکتی ہوں کہ جس کا مجھے ذاتی طور پر یقینی علم ہے۔کچھ دنوں کے بعد حضرت میاں صاحب کو ملنے کا اتفاق ہوا۔چونکہ کافی بے تکلفی ہو چکی ہوئی تھی۔اس لئے میں نے اس واقعہ کا ذکر کیا کہ اس روز بیگم صاحبہ نے تو بہت سختی سے کام لیا۔اس پر آپ نے فرمایا اوہو! آپ حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم کو اور ان کے روحانی مقام کو نہیں جانتے۔الفاظ حضرت اور سیدہ سن کر میں مسکرایا۔کیونکہ ایک خاوند کے منہ سے ان الفاظ کا استعمال باعث استعجاب تھا۔میرے استعجاب کو فوراً بھانپ گئے فرمایا میں آپ کی معنی خیز مسکراہٹ کا مطلب سمجھ گیا۔جب سے میری وابستگی اس مقدس وجود کے ساتھ ہوئی ہے۔میں نے کبھی اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا کہ گو وہ میری wife ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی اور شعائر اللہ میں سے ہیں۔میں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں کما حقہ ان کی قدر نہیں کر سکا۔اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ میں ان کا تا زندگی کامل طور پر احترام کرتا رہوں۔اس اظہار کے وقت دونوں کے جذبات کی کیفیت کچھ اور ہو گئی اور آنکھوں سے آنسو جھانکنے لگے۔اسی طرح آپ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا ذکر فرماتے تو حضرت میاں بشیر احمد صاحب کہتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام