اصحاب احمد (جلد 12) — Page 80
80 کشمکش ہو رہی ہے۔ایک طرف تمہاری شادی کی خوشی ہے اور اس بات کی خوشی ہے کہ ایک شریف ترین خاندان میں تم بیا ہی جارہی ہو۔دوسری طرف تمہارے جانے کا صدمہ ہورہا ہے۔آنکھوں میں بقیہ حاشیہ کے بھجوائی ہے۔اور اپنے بیلنس شیٹ بھی دفتر بہشتی مقبرہ کو بھجوا دئیے ہیں اور آپ اس امر پر تیار تھے کہ مرکزی انسپکٹر سندھ آکر آپ کے حسابات دیکھ لیں۔، (14) حضرت نواب محمد عبداللہ خاں صاحب کے دو ایمان افروز خطوط ”جماعت کے نوجوانوں کیلئے لمحہ فکریہ کے عنوانات کے تحت اخویم چوہدری شبیر احمد صاحب بی اے وکیل المال تحریک جدید رقم فرماتے ہیں :۔آپ انہی جلیل القدر ہستیوں میں سے تھے جنہیں اشاعت اسلام کے عظیم الشان کام کے ساتھ خاص لگاؤ تھا۔تحریک جدید کے معروف چندہ کے علاوہ بیرونی ممالک کی ہر مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے کا خاص خیال آپ کو دامن گیر رہتا تھا۔خدمت دین کا یہی جذبہ آپ کے اہل بیت میں بھی پایا جاتا ہے جس پر دفتر ہذا کا ریکارڈ شاہد ہے۔آپ نے آخر دم تک اپنی ان قربانیوں کو جاری رکھا اس اثناء میں ہجرت کا سانحہ بھی پیش آیا۔آپ پر بیماری کے حملے بھی ہوئے۔مالی نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔مگر آپ نے اشاعت اسلام کے فکر کو تمام فکروں پر مقدم رکھا۔ذیل میں آپ کے ایک مکتوب گرامی محررہ مورخہ 16اکتوبر 1959ء کی نقل پیش کی جاتی ہے جس میں آپ نے دفتر ہذا کو ایک اہم امر کی طرف توجہ دلائی اور اس ضمن میں سب سے پہلے اپنا نیک نمونہ قائم فرمایا۔آپ تحریر فرماتے ہیں :۔میرا غالباً 705 روپے کا پچھلے سال کا وعدہ تھا۔میں ہمیشہ اکتوبر میں ہی اپنا چندہ ادا کیا کرتا ہوں امسال بھی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ادائیگی کی توفیق دے دی ہے۔آئندہ سال کا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بیماری کے پیش نظر ایک ہزار کا وعدہ کرتا ہوں۔میرے نزدیک اس سال جماعت کو زیادہ قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تا کہ حضور کو تحریک جدید کے اخراجات کی طرف سے اطمینان حاصل رہے۔اور بیماری کی حالت میں پریشانی نہ اٹھائیں اور جماعت کی تبلیغی کوششوں سے مطمئن رہیں“۔دفتر ہذا نے آپ کی اس قابل قدر تحریک کی اشاعت کی جس کے بفضلہ تعالیٰ بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے۔بعدہ دفتر ہذا نے متعدد بزرگوں کو اس سلسلہ میں مضامین لکھنے کی بھی درخواست کی۔چنانچہ حضرت نواب صاحب کو بھی اس قسم کی درخواست بھجوائی گئی جوابا جو مکتوب گرامی آپ نے تحریر فرمایا۔اس کی نقل بھی ہدیہ قارئین کی جاتی ہے اس سے بھی آپ کے کئی اوصاف حمیدہ ظاہر ہوتے ہیں مثلاً انکساری ، خوش خلقی ، انفاق فی سبیل اللہ اور دعاؤں میں شغف ،خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا غیر معمولی احترام وغیرہ۔آپ نے تحریر فرمایا :۔آپ کا محبت نامہ ملا مجھے تو مضمون نگاری سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔اللہ تعالیٰ (باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر )