اصحاب احمد (جلد 12) — Page 68
68 شادی کی برکات میاں عبدالرحیم خان صاحب خالد بیان کرتے ہیں کہ میاں عبداللہ خاں بہت جلد دوسروں کی رائے سے متاثر ہوتے تھے۔ان کی شادی ان کی دنیا کا نقشہ بدلنے میں ایک بہترین موڑ ثابت ہوئی۔عام طور پر ماؤں کو اپنی چھوٹی اولاد سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔سواماں جان کی ہمدردیاں بھی عبداللہ خاں کو حاصل ہو گئیں۔چونکہ بڑی بیٹی ایسی جگہ بیاہی گئی تھیں کہ ان کا میاں اس وقت کے لحاظ سے اچھی حیثیت کا مالک تھا اور ان کو کافی آرام اور بے فکری تھی۔عبداللہ خاں کا مستقبل ابھی بنا نہیں تھا۔اس لئے حضرت اماں جان نے پوری توجہ اس طرف دے دی۔اللہ تعالیٰ نے غیب سے یہ سامان کر دیا کہ عبداللہ خاں جماعت کیلئے اراضی علاقہ سندھ میں دیکھنے گئے۔اراضی سب لے رہے تھے۔انہوں نے بھی حاصل کر لی۔اور اس میں خدا تعالیٰ نے برکت بخشی اور بہت جلد ان کیلئے دنیوی راستے کھل گئے۔مرحوم پردہ کے سخت پابند تھے۔صالح ، نمازی اور نہایت مشرع انسان تھے۔دل کے بہت اچھے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے اور اپنے قرب میں جگہ دے اور اعلی علیین میں ان کو مدارج حاصل ہوں۔آمین حضرت ام المومنین کی دعائیں اور شکر خداوندی کن غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر دنیوی انعامات کئے۔کس طرح اماں جان آپ کی اور آپ کے اہل بیت کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور آپ کیسے اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر حصول نصرت کیلئے گرتے تھے۔اور مایوس نہ ہوتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کا کیسا تعلق تھا۔اور آپ کس مقام تقویٰ پر فائز تھے اور خشیتہ اللہ کا کس قدر جذ بہ رکھتے تھے ان امور پر آپ کا ذیل کا بیان پوری روشنی ڈالتا ہے۔جو آپ نے ایک تقریب پر نصرت آباد اسٹیٹ میں پڑھا تھا۔جو اراضی کے بابرکت ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور کارکنان کی خدمات کا اعتراف کرنے کیلئے منعقد کی تھی۔آپ نے کارکنوں کو ترقیاں بھی دیں اور سات صد روپے کے انعامات بھی تقسیم کئے۔یہ تقریب دعا پر اختتام پذیر ہوئی تھی۔فرمایا۔محترم ایڈیٹر صاحب الحکم کا رروائی سے قبل تحریر کرتے ہیں :۔خان محمد عبد اللہ خان صاحب کے حالات بہت کم پریس میں آئے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک گوشہ نشین بزرگ ہیں۔اور ہر قسم کے نام و نمود سے دور بھاگتے ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اس میں ان کا اخلاص