اصحاب احمد (جلد 12) — Page 64
64 ہے کہ ایک طرف حاکم بنو دوسری طرف حسن سلوک کرو۔اور یہاں تک کہ بہت سیدھے کرنے کی کوشش بھی نہ کرو۔پھر ایسے بڑے انسان کی بیٹی سے شادی تو اس سے سلوک اور بھی مشکلات میں ڈالتا ہے۔پس اس کی تطبیق اور طرز یہی ہو سکتی ہے کہ ایسی طرز اختیار کرو کہ بیوی تمہارے احسانات میں دب جائے۔حسن سلوک سے سر نہ اٹھا سکے۔اور محبت نشاط طبع سے تمہای فرمانبردار ہو جائے۔پس جس طرح میں مسیح کی بڑی بیٹی سے سلوک کرتا ہوں۔اور عزت وادب کرتا ہوں۔تم کو بھی مسیح کی چھوٹی بیٹی کا ادب اور حسن سلوک کرنا چاہئے۔اور اس کو نبھانا چاہئے۔اب میں اس خط کو ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہ شادی تمہارے لئے اور ہمارے لئے اللہ تعالیٰ با برکت کرے۔راقم محمد علی خاں رخصتانه میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں۔” میری شادی کے روز شام کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بلا بھیجا۔چونکہ حضرت والد صاحب ابھی برات کے طریق کو اپنی تحقیقات میں اسلامی طریق نہیں سمجھتے تھے۔اس لئے شہر پہنچ ہی تھا کہ آپ نے واپس بلا بھیجا اور میں حضور۔۔۔کی اجازت سے واپس چلا گیا۔اور بعد میں سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اور ہمشیرہ بو زینب بیگم صاحبہ دلہن کو دارا مسیح سے دار السلام لے گئیں۔0 حضرت نواب نے 23 و 24 فروری 1917ء کو کوٹھی دارالسلام میں احباب کو دعوت ولیمہ پر مدعو (الفضل 27 فروری 1917ء) کیا۔اصحاب احمد جلد دوم ص 298) شادی کے تعلق میں ساری تفصیل جلد دوم سے نقل کی گئی ہے، معمولی تغیر اور قدرے اضافہ کیا گیا ہے۔فتنہ پرداز منافق ذرہ ہی آگ لگا کرفتنہ سامانی کرتے ہیں۔فخر الدین ملتانی جو بظاہر فریقین کا معتمد تھا اس نے بدنیتی سے ادھورا پیغام پہنچایا۔اگر فریقین اعلی مقام اتقاء پر فائز اور صاف دل نہ ہوتے تو عین ممکن تھا کہ رخصتانہ عمل میں نہ آتا اور نا معلوم کیا کچھ حالات رونما ہوتے۔اس شخص کی منافقت آشکار ہو چکی ہے اور اسی حالت میں اس کی موت واقع ہو چکی ہے۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی شرانگیزی سے محفوظ رکھا اور اس کا اثر کبھی بھی رونما نہیں ہوا۔دونوں خاندانوں کے تعلقات نہایت پاکیزہ اور قابل رشک ہیں۔رخصتانہ کے بارے میں محترم ایڈیٹر صاحب الفضل تحریر کرتے ہیں۔(باقی حاشیہ صفحہ 65 پر )