اصحاب احمد (جلد 12) — Page 30
30 میاں محمد عبداللہ خان صاحب یکم جنوری 1896ء کو میاں محمد عبداللہ خانصاحب جیسا گوہر نایاب تولد ہوا۔آپ اڑھائی تین سال کے تھے کہ والدہ کی شفقت بھری گود سے محروم ہو گئے۔جس کا نعم البدل بعد میں حضرت ام المومنین کے وجود باجود میں آپ کو حاصل ہوا۔آپ کے بھائی میاں عبدالرحیم خانصاحب خالد جو آپ سے صرف ایک سال چودہ دن چھوٹے ہیں۔بیان کرتے ہیں کہ بھائی کی رضاعی مائیں پانچ تھیں۔ایک دائی جس کا دودھ میں نے بھی پیا تھا مگر زیادہ تر وہ عبداللہ خان کی رضاعی والدہ سمجھی جاتی تھی۔اس کا خاوند کما نامی بہت عرصہ ہمارے پاس ملازم رہا۔محمد بخش ( خادم۔جس کا پوتا بشیر میرے پاس ملازم ہے ) عبداللہ خان کی دیکھ بھال کرتا تھا۔بھائی نے ابتدائی تعلیم مالیر کوٹلہ میں مولوی محمد اکرم صاحب سے پائی تھی۔جن سے میں اس لئے بہت مانوس تھا کہ وہ بادام، پستہ، کشمش وغیرہ کی کھچڑی مجھے دیتے تھے۔شاید بھائی کی بھی ایسی تواضع کرتے ہوں گے۔ایک روایت میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب اپنے والد ماجد کے ہمراہ جب ہجرت کے وقت قادیان آئے تو چھ سال کی عمر کے تھے۔اور آپ کو قریباً ساڑھے چھ سال تک حضور کے بہت قرب میں قیام کا اور حضور کی شفقت کا اور نگرانی کا مورد ہونے کا زریں موقعہ میسر رہا۔آپ نے مجھے بہت سی روایات تحریر کر کے ارسال فرمائی تھیں۔جو تالیف کتاب کے وقت مل نہیں سکیں۔ایک روایت جو مل سکی ہے درج ذیل کی جاتی ہے۔آپ رقم فرماتے ہیں:۔میں نے جو روایات لکھ کر ارسال کی ہیں ان کے بعد مجھے یاد آیا۔کہ میں اس سیر میں بھی تھا جس میں حضور کے ساتھ سات سو افراد سیر کیلئے جلسہ سالانہ کے موقع پر گئے تھے۔لیکن ریتی چھلہ میں جہاں سٹور کی عمارت ہے اس کے شمال مغربی کونے میں ایک لسوڑے کا درخت ہوتا تھا۔حضور اس کے نیچے ٹھہرے اور فرمانے لگے کہ اب اس قدر احباب کی تعداد ہے کہ چلا نہیں جاتا۔اس لئے واپس چلنا چاہئے۔چنانچہ حضور واپس تشریف لے آئے۔غالبا یہ آخری جلسہ سالانہ حضور کے زمانہ کا تھا۔مکتوب بنام مولف دسمبر 1957 ء ) آپ کے ہاتھ کا طرز تحریر محفوظ کرنے کیلئے اس روایت کا ذیل میں چہ بہ شامل کیا جاتا ہے۔چه به صفحه (31) پر ملاحظہ فرمائیں)