اصحاب احمد (جلد 12) — Page 206
206 علیہ السلام کے عاشق تھے۔اور اسی طرح آپ کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے بھی بے حد محبت تھی۔اور آپ کا ہر حکم اور ہر لفظ آپ کیلئے حرف آخر تھا۔آپ سلسلہ کے سارے نظام کی بڑی سختی سے پابندی فرماتے۔اور ہمیشہ ہم بچوں کو بھی یہ نصیحت فرماتے کہ ہمیشہ دعا کرتے رہو۔کہ تم ہمیشہ خلافت کی نعمت کے وارث بنے رہو اور یہ نعمت تم جماعت احمدیہ کے افراد سے کبھی نہ چھنے۔اور حقیقی سعادت یہی ہے کہ خلیفہ کا کوئی حکم خواہ تم پر کتنا ہی گراں کیوں نہ ہوا سے خوشی سے مانو۔اس میں برکت ہی برکت ہے۔اسی طرح آپ کو حضرت خلیفہ اول سے بھی بے حد محبت تھی۔ابا جان جب بھی آپ کا ذکر کرتے اور اکثر واقعات سناتے اس وقت آپ کے چہرے پر انتہائی محبت اور پیار ہوتا تھا۔اور ہمیں ہمیشہ فرماتے کہ میں ہمیشہ حضرت خلیفہ اول کیلئے بے حد دعا کرتا ہوں اور آپ کی اولاد کیلئے بے حد دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو نیک ہدایت دے۔اور اپنے والد بزرگوار کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔آپ کو حضرت اماں جان سے بے حد محبت تھی اور اس بارہ میں میرے ابا جان نہایت ہی خوش قسمت تھے کہ ان کو حضرت اماں جان کی بے حد محبت اور بے حد دعائیں ملی ہیں۔آج بھی میری آنکھوں کے سامنے یہ نظارہ پھر رہا ہے۔کہ قادیان میں حضرت اماں جان اکثر صبح ہی ہماری کوٹھی دار السلام تشریف لے آتیں اور ابا جان ان کو ساتھ لئے ہوئے انتہائی خوشی میں چلے آرہے ہیں۔اور دور سے ہی آواز دے رہے ہیں۔بیگم ! دیکھو حضرت اماں جان تشریف لائی ہیں۔اور پھر کس خوشی سے ابا جان اماں جان کے ہر آرام کا خیال رکھتے۔کہیں پلنگ پچھوارہے ہیں، کہیں آپ کیلئے چاۓ لگواتے ہیں، آپ کی پسند کے پھل پیش کرتے ہیں۔ہم میں سے کسی کو حضرت اماں جان کو کوئی کتاب سنانے کیلئے کہہ رہے ہیں۔غرضیکہ جتنی دیر آپ تشریف رکھتیں۔ابا جان آپ کیلئے بچھے جاتے او ر بہت ہی خوش ہوتے تھے۔ابا جان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی کہ زیادہ سے زیادہ آپ کی خدمت کریں اور آپ کسی خواہش کا اظہار کریں جسے پورا کر کے وہ بہت مسرور ہوں۔اور اسی لئے آپ کو میرے ابا سے بے حد پیار تھا اور ابا جان کی ذراسی تکلیف پر بھی آپ کا محبت بھرا دل بے چین ہوجاتا تھا اور آپ ان کیلئے بہت دعا ئیں فرماتی تھیں۔میری شادی کے متعلق ابا جان نے بار ہا سنایا کہ حضرت اماں جان کی خواہش پر ہوئی۔یوں کہ ایک دن آپ تشریف لائیں اور فرمایا۔میاں ! آج میں تمہارے پاس ایک چیز مانگنے آئی ہوں مجھے