اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 173 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 173

173 شرط کو پورا کرنے کیلئے مرحوم نے ربڑ کی ایک knee caps بنوائی جو وہ گھٹنوں پر پہنتے تھے۔اس طرح ان کی ٹانگیں مکمل طور پر ٹخنوں تک ڈھانکی جاتی تھیں۔اس معمولی واقعہ کے ذکر سے مجھے صرف یہ بتلانا مقصود ہے کہ مغربی تہذیب کے اثر کے ماتحت اب پردہ کا کیا حشر ہو گیا ہے۔آپ کی شادی کے تعلق میں میں ایک اور ایمان افروز واقعہ کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کے مسیح کی صاحبزادی اور ریاست مالیر کوٹلہ کے حکمران خاندان کے شاہزادے کی شادی کس سادگی سے ہوئی۔میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کی شادی حضرت قبلہ نواب صاحب کے بیٹوں کی شادی میں پہلی شادی تھی اور قدرتا پہلی شادی میں زیادہ شوق کا اظہار کیا جاتا ہے اور خرچ بھی زیادہ کیا جاتا ہے۔لیکن یہاں یہ ہوا کہ اس شادی میں شمولیت کیلئے قادیان کے باہر سے حضرت نواب صاحب نے جن اصحاب کو بلوایا۔وہ صرف میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کے تعلق کی وجہ سے یہ خاکسار تھا یا مالیر کوٹلہ سے خان صاحب امراؤ علی خان صاحب جو حضرت نواب صاحب کے قریبی رشتہ دار تھے اور یا حضرت میر عنایت علی صاحب رضی اللہ عنہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نہایت قدیم صحابی اور حضرت نواب صاحب کے پرانے ملازم تھے حالانکہ حضرت نواب صاحب کے مالیر کوٹلہ کے سب قریبی رشتہ دار زندہ تھے۔لاہور میں ان کے چھوٹے بھائی سرذوالفقار علی خان صاحب صوبہ میں بہت عظمت کے مالک تھے اور مالیر کوٹلہ میں حضرت نواب صاحب کی بڑی ہمشیرہ بھی بقید حیات تھیں۔حضرت نواب صاحب کا یہ خیال عقیدہ کی حد تک پہنچا ہوا تھا کہ رخصتانہ کے وقت دولہا کو اپنی دلہن کو لینے کیلئے اس کے گھر نہیں جانا چاہئے۔بلکہ دلہن کی رشتہ دار عورتوں کو خود دلہن کو دولہا کے گھر پہنچانا چاہئے۔مجھے معلوم نہیں کہ حضرت نواب صاحب کے اس خیال کی بنیاد کیا تھی۔ممکن ہے انہوں نے کسی حدیث یا اسلامی تاریخ کی کسی کتاب میں پڑھا ہو کہ آنحضرت ﷺ کی کسی صاحبزادی کا رخصتانہ اسی طرح سے ہوا تھا۔بہر حال وہ اس خیال پر شدت سے قائم تھے۔اس لئے جب حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کے رخصتانہ کا وقت ہوا۔تو حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے غالباً حضرت نواب صاحب کے اس خیال کو جانتے ہوئے کہ کسی برات وغیرہ کا آنا تو خارج از بحث ہے میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کو کہلا بھیجا کہ آپ اکیلے ہی ہمارے ہاں آجائیں۔یہ بات مجھے خود میاں عبداللہ خان صاحب نے بتلائی۔کہ جب وہ حضرت اماں جان کے ارشاد کی تعمیل میں اکیلے کوٹھی دار السلام سے دارا مسیح کی طرف گئے۔تو پہلے اس کے کہ