اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 146 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 146

146 کیلئے غالباً دو تین روپے بھی دیئے وہاں جا کر دیکھا تو ہر منزل، ہر کمرہ سیٹرھیاں غرض ہر جگہ کو مہاجرین نے واقعی بیت الخلاء بنارکھا تھا اور خوفناک تعفن پیدا ہو چکا تھا۔خاکسار اور دونوں خاکروبوں نے مل کر دو اڑھائی گھنٹے میں صفائی کی اور پھر دفتر آکر رپورٹ پیش کی۔عین اس وقت اتفاقاً جناب شیخ بشیر احمد صاحب ( حج ہائی کورٹ لاہور ) تشریف لے آئے اور مجھے دیکھ کر مذاقاً کہا کہ سناؤ بھئی would be وکیل تمہارا کیا حال ہے۔یہ سنتے ہی مولوی صاحب حیران سے ہو گئے اور مجھے دفتر نظارت علیاء میں واپس کر دیا۔حضرت نواب زادہ صاحب کو میں نے سارا واقعہ عرض کیا۔تو آپ خوب ہنسے مگر ساتھ ہی فرمایا کہ مجھے سخت فکر اور غم لگا ہوا تھا کہ سیمنٹ بلڈنگ میں غلاظت کے باعث بچے اور عورتیں کسی بیماری کا شکار نہ ہو جائیں۔اب مجھے اطمینان ہو گیا ہے اس وقت آپ کا دلر با تبسم اور جذبات اتقا کا اختلاط عجیب قسم کا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا۔کہ آپ کے دل و دماغ پر جہاں داغ ہجرت کا جانگد از احساس مستولی ہے۔وہاں خدا کے مامور رسول کی تخت گاہ اور راحت بھرے نشیمن سے دست قدرت کے اڑائے ہوئے طیور کی آسائش و آرام اور بہبودی کا جذبہ بھی موجزن ہے۔آپ ان دنوں انضباط اوقات کو دفتر میں بالکل ملحوظ نہ رکھتے تھے۔بلکہ ایک لحاظ سے چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی سرانجام دیتے تھے۔کیونکہ سارا دن مختلف دفتروں میں مختلف امور کے متعلق سرکاری حکام یا دیگر لوگوں سے ملاقاتیں کرنا پڑتی تھیں اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا۔کہ ابھی آکر بیٹھے ہیں کہ ایک فون آگیا۔جس کو سنتے ہی پھر چلے گئے یا حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کسی ہنگامی کام کیلئے بلوا بھیجا۔اس طرح عشاء کے وقت تک تو میں نے عموماً آپ کو کام کرتے دیکھا۔آپ کی طبیعت میں عجیب قسم کا سکون تحمل، بردباری، کیفیت اتقاء، حسن صورت و سیرت ، جذ به اخوت و ہمدردی اور مفوضہ فرائض کی سرانجام دہی میں انتھک سعی اور استغراق پایا جاتا تھا۔اس جگہ ایک اور امر کا ذکر کرنے کو دل تو نہیں چاہتا۔کیونکہ تصور کرنے پر صدمہ سا محسوس ہوتا ہے مگر باعتبار سیاق وسباق ذکر کرنا لازمی ہے۔بعض دفعہ بعض احباب کی طرف سے اعراض و اعتراض ، قلت تعاون اور بے رخی کا نمونہ محسوس اور معلوم ہونے کے باوجود آپ کے حسن عمل اور حسن اخلاق میں فرق نہیں آتا تھا۔ایسے افراد سے پھر بھی برادرانہ انداز اور تلطف سے پیش آتے تھے۔غالباً دو تین دن اپنے دفتر میں رکھنے کے بعد حضرت نواب صاحب نے مجھے ایک اور نواب