اصحاب احمد (جلد 12) — Page 13
13 ایک عاجزانہ درخواست 0 اصحاب احمد حصہ دوم کا ریویو میری نظر سے گزرا۔یہ کتاب حضرت والد صاحب نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے حالات پر مشتمل ہے۔اس کتاب کو ملک صلاح الدین صاحب حال در ولیش دارالامان قادیان نے تالیف کیا ہے۔میں اس کتاب اور اصحاب احمد نمبر 1 کے متعلق پہلے ہی کچھ لکھنا چاہتا تھا۔لیکن میری صحت اس بات کی اجازت نہ دیتی تھی کہ میں کچھ لکھوں۔اب بھی میں ابھی بیمار ہی ہوں۔کافی کمزور ہوں چند قدم ہی اپنے کمرہ میں چل پھر سکتا ہوں لیکن بزرگوں اور آپ لوگوں کی دعاؤں سے تھوڑا بہت لکھ لیتا ہوں۔مجھے بیماری سے کلی طور پر ا بھی افاقہ نہیں اس لئے دعاؤں کا بہت محتاج ہوں۔صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام رضی اللہ تعالی عنہم اب ہماری آنکھوں سے ایک ایک شخصیتیں ہیں کر کے اوجھل ہورہے ہیں۔اب خال ہی ہم میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔چند ایک می جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔یہ وہ مبارک ہستیاں تھیں جنہوں نے موجودہ زمانہ کے روحانی سورج کو چڑھتے اور پھر غروب ہوتے دیکھا اور اس نور کی ضیا باریوں سے انہوں نے اپنے دل و دماغ کو منور کیا ہے اور اس پاک وجود کے نمونہ کو دیکھ کر اپنے پر وہی رنگ چڑھانے کی کوشش کی جو اللہ اور رسول اللہ (ﷺ) کی محبت میں فنا ہو کر اس مقدس وجود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے پر چڑھایا۔یہ نورانی شمعیں تھیں جن کو فداہ ابی وہ امی حضرت مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) کے پاک نمونہ اور دعاؤں نے منور کیا تھا۔یہ عاشق اپنے معشوق کے رنگ میں رنگین تھے۔انہوں نے اس چیز سے وافر حصہ لیا تھا۔جو کہ آمد مہدی مسعود مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اصل مقصود اور مطلوب تھی۔اب چونکہ یہ لوگ بہت حد تک ہماری نظروں سے اوجھل ہو چکے ہیں۔اس لئے ان کے حالات ہی ہم کو بتا سکتے ہیں ( کہ ) کس غرض کیلئے یہ دنیا میں رہے اور کس غرض کو لے کر دنیا سے گزرے۔وہ دنیا میں رہتے تھے لیکن دنیا سے علیحدہ تھے۔وہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا بہترین نمونہ تھے۔وہ اپنے سید و آقا ومولیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کس کس رنگ میں خوش کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا و محبت حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔یہ دعاؤں کا ہی کرشمہ ہے کہ احباب کے سامنے یہ چند معروضات پیش کر رہا ہوں۔