اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 111 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 111

111 طبیعت رکھتے تھے۔فرض نمازوں کے علاوہ نماز تہجد کے بھی پابند تھے اور دعاؤں میں بہت شغف رکھتے تھے۔اور سلسلہ کی مالی خدمت میں ذوق شوق سے حصہ لیتے تھے۔چھیاسٹھ سال کی عمر میں 18 ستمبر 1961ء کو لاہور میں فوت ہو کر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔اللَّهُمَّ اغْفِرُهُ وَاَدْخِلُهُ الْجَنَّةَ - شکر یہ احباب و تحریک دعا حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہ العالی رقم فرماتی ہیں :۔(مرزا بشیر احمد ربوہ ) السلام عليكم ورحمة الله وبركاته وجزاكم الله تعالى سب میرے عزیز بہن بھائیوں کو میری جانب سے تحریر ہے جنہوں نے عزیزی محمد عبد اللہ خان کی وفات پر فرداً بھی اور جماعتاً بھی تاروں اور خطوط سے پیام تعزیت میرے نام ارسال کئے میری صحت بھی آج کل ٹھیک نہیں اور بعض ناگزیر وجوہ سے میں چونکہ الگ الگ خط لکھ نہیں سکی۔تو ایک کو ایک پر ترجیح بھی نہیں دی۔یہی پیام ممنونیت میری جانب سے سبھی کافی سمجھیں۔احمدی بہنوں بھائیوں کے مخلصانہ محبانہ جذبات غم کے ایام میں بھی ایک خوشی اور بے حد شکر الہی کی لہر دل میں دوڑا دیتے ہیں۔کروڑوں ان گنت درود و سلام اس ہمارے محبوب ومحسن آقاعدے پر اور ان کے سچے عاشق ، غلام مسیح موعود علیہ السلام پر تا ابد ہرلمحہ زیادہ ہی زیادہ ہوتے چلے جائیں۔جن کے صدقہ میں یہ محبت یہ دلی ہمدردیاں ہم کو میسر آسکیں۔ورنہ ہم کہاں اس قابل۔سوچتی ہوں کہ اگر ہر موئے من گردد زبانے جب بھی اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا شکر ادا کرنے سے بالکل قاصر ہوں۔“ یہاں میں ایک خواب بیان کرنا ضروری خیال کرتی ہوں جو شاید میں ملک صلاح الدین صاحب کو لکھ کر دے بھی چکی ہوں۔میرے میاں ( نواب محمد علی خان) نے اپنی اوائل عمر اور شروع بیعت کے ایام میں دیکھا تھا جس کا اکثر مجھ سے ذکر کیا۔کہ ”میں نے دیکھا میرے مکان شیروانی کوٹ والے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں۔اور گود میں دونوں ہاتھوں میں تھامے پودے ہیں جن کو حضرت اقدس اپنے ہاتھ سے میرے باغیچہ میں لگارہے ہیں۔جب 1896ء میں حضرت خلیفہ اول مالیر کوٹلہ تشریف لائے۔تو میں نے یہ خواب ان کو سنایا۔آپ نے سن