اصحاب احمد (جلد 12) — Page 100
100 آسمان پر ان کیلئے مقدر ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم کو ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے اللَّهُمَّ رَبَّنَا آمِينَ (3) میری دعاؤں اور نیک خواہشوں کا وہی بچہ حقدار ہوگا۔جو اپنی ماں کی خدمت کو جز وایمان اور فرض قرار دے گا۔ان کی ماں معمولی عورت نہیں ہیں۔میں نے ان کے وجود میں اللہ تعالیٰ کی تجلیات کو کارفرما دیکھا ہے۔ہر وقت اور ہر مشکل کے وقت ان کی ذات کو اللہ تعالیٰ کی محبت اور پیار کا محور پایا۔چارسال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے حبیب کی گود سے لیا۔پھر عجیب در عجیب رنگ میں ان کی ربوبیت فرمائی۔میں نے اللہ تعالیٰ کے جو نشانات اپنی زندگی میں ان کے وجود میں دیکھے ہیں۔وہ ایک بڑی حد تک احمدیت پر ایمان کامل پیدا کرنے کا موجب ہوئے ہیں۔پس جو بچے میرے بعد ان کو خوش رکھیں گے اور ان کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ان کے ساتھ میری دعائیں اور نیک آرزوئیں ہوں گی۔جو بچے ان کو ناراض کریں گے وہ میری روح کو بھی دکھ دیں گے، میں ان سے دور، وہ مجھ سے دور ہوں گے۔اللہ تعالیٰ میری اولاد کو اپنی رضا کے ماتحت ماں کی خدمت کی توفیق دے اور انہیں اپنی رضا اور محبت کا مورد بنائے۔آمین (4) میاں عبدالرحمن خان صاحب کی جائیداد کے تقسیم ( کی ) بارہ میں عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔مجھے امید ہے کہ مقدمہ ہمارے حق میں ہی ہوگا۔اس جائیداد میں میرا 3/10 حصہ ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ لاکھ یا سوا لاکھ روپیہ اس جائیداد سے آ جائے گا۔میری خواہش ہے کہ اس سرمایہ سے اگر مل جائے تو حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی اجازت سے امریکہ میں کسی مناسب جگہ جہاں حضور فرماویں۔مسجد بنادی جائے اس مسجد کا نام حجۃ اللہ مسجد رکھا جائے جو خیر و برکت روحانی یا جسمانی ہمیں حاصل ہوئی ہے۔وہ والد صاحب مرحوم و مغفور کے ذریعہ حاصل ہوئی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ بطور صدقہ جاریہ یہ نیک کام ان کے نام پر کیا جائے۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔(5) آخر میں میں اپنی اولادکو ایک اور نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ سلسال کے نظام اور خلیفہ وقت پر اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ ان کی بیکاری کا مشغلہ ہوتا ہے ایسے لوگ عام طور پر خود پسند اور مغرور لوگ ہوتے ہیں۔وہ اپنے لئے وہ مقام حاصل کرنا چاہتے۔جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دوسروں کو دیا ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ معترض