اصحاب احمد (جلد 12) — Page 90
90 نے ان کو مرعوب کیا ہو۔وہ طباع اور ذہین ہیں وہ جس سے گفتگو کرتی ہیں اس کو اپنا گرویدہ کر لیتی ہیں۔خاوند پر کبھی ناجائز بوجھ نہیں ڈالتیں۔بلکہ اپنے خاوند کے فکر وہم و غم میں پوری ہمدرد اور مونس ساتھی کا کام دیتی ہیں۔بچوں کی تعلیم و تربیت میں اپنی مثال آپ ہی ہیں۔عزیزوں ، رشتہ داروں سے نیک سلوک کر کے حظ حاصل کرتی ہیں۔ان کو کسی چیز کے خود استعمال کرنے کی نسبت اس بات سے زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ دوسرا ان کی چیز کو استعمال کرے۔اگر کسی نے کسی وقت کوئی تکلیف پہنچائی ہوتو ذراسی تلافی سے تمام شکایات طاق نسیاں کر دیتی ہیں۔صبر وشکر ان کا شیوہ ہے۔بغض وحسد وکینہ سے دور کا بھی واسطہ) نہیں اللہ تعالیٰ سے ان کو محبت ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں وہ سرشار ہیں۔میں نے اکثر اوقات دیکھا ہے کہ ان کو کسی چیز کی خواہش پیدا ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو آناً فاناً مہیا کرنے کے سامان کر دیئے۔میرے پر جو بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں اور عنایات ہیں وہ اسی کے طفیل ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چار سال کی عمر میں اس کو اپنے مولیٰ کے سپر د کر گئے تھے۔جب سے ہی وہ اپنے مولی کی گود میں نہایت پیار سے رہتی ہیں۔میری راحت کا موجب بنی ہوئی ہیں وہ میرے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حرز کا کام دیتی ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی صفت حفیظ کی پوری پوری تجلی ہیں۔بسا اوقات میں کسی گناہ یا آزمائش کے قریب پہنچا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس میری حالت سے مطلع کر دیا۔یہ ایک دفعہ نہیں دو دفعہ (نہیں) بارہا ایسا ہوا جب صبح کو میں اٹھا تو وہ خواب یا اشارہ میرے متعلق ہوا ہوتا مجھے بتا تیں تو میں حیرانی میں پڑ جاتا۔اور مجھے اپنی اصلاح کا موقعہ مل جاتا۔کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کس طرح حفاظت کرتا ہے اور غیب باتوں سے آگاہ کر دیتا ہے۔میں اس کی زیادہ وضاحت نہیں کرسکتا۔یہ ایک مستقل مضمون ہے۔اگر میں بیان کروں تو میرا بیان بہت (طویل ) بن جاتا ہے۔میں آج ایک مشت خاک ہوتا۔اگر ان کی تیمار داری اور دعا ئیں جو مضطربانہ اور بیقرارانہ انداز میں انہوں نے کی ہیں نہ ہوتیں۔پس ایک طرف اس قدر قابل قدر ہستی۔دوسری (طرف) میرے جیسا بیج دان۔جو احباب مجھے جانتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا بے جوڑ رشتہ ہے۔لیکن اپنے مولیٰ کریم کا شکر یہ ادا کرتے نہیں تھکتا۔اس نے میری بیوی کے دل میں اس قدر محبت اور پیار پیدا کر دیا۔کہ جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔عام طور پر لوگ چند روز کی تیمارداری سے تنگ آجاتے