اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 89 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 89

89 اس لئے یہ ناز و نعمت کی پلی جو کہ ریشم واطلس کے لحافوں میں آرام کی عادی تھی زمین پر چند منٹ کیلئے سر ٹیک کر آرام لے لیتی تھی۔بلکہ زمین پر نہیں ایک تخت پوش نماز کیلئے بچھا ہوا تھا اس پر چند منٹ کا آرام اگر میسر آجائے تو آجائے۔ورنہ ہر وقت چوکس ، ہوشیار، میرے کام کیلئے مستعد ہوتی تھیں۔یہ نہیں کہ کوئی اور میرا خبر گیراں نہ تھا۔ان ایام میں ملازموں کے علاوہ تمام عزیز اور رشتہ دار میری خدمت میں لگے ہوئے تھے میں اس بیماری میں اپنے کو اس قدرخوش نصیب اور خوش بخت لوگوں میں متصور کرتا تھا۔جس کا آپ لوگ اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتیاں اور نواسیاں اس محبت اور جذبہ سے خدمت میں لگی ہوئی تھیں کہ اگر میں اس حالت میں مر بھی جاتا۔تو یہ بھی میرے لئے ایک روحانی انبساط کا موجب ہوتا۔اپنے پاک لوگوں کو ایک گنہ گار کی خدمت میں لگا دیا۔یہ اس کے اپنے عطا یا ہیں جس کو نہ میں سمجھ سکتا ہوں۔نہ کوئی اور۔مجھ سا نا چیز اور یہ سلوکے لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگاہ میں بار لیکن میری باوفا، پیاری بیوی نے کسی کی امداد پر بھروسہ نہیں کیا۔بلکہ ان کی یہی خواہش اور آرزو رہتی تھی۔کہ خود ہی میرا کام کریں۔اگر کسی دوسرے کو کام کہتا تھا کہ ان کو آرام ملے تو اس سے خوش ہونے کی بجائے ناراض ہوتیں۔لوگ کہتے ہیں کہ اسلامی شادیاں کامیاب نہیں ہوتیں۔مرد اور عورت ایک دوسرے کی طبیعت سے واقف نہیں ہوتے۔ان فلسفیوں کو کیا علم کہ جن لوگوں کو خدا تعالی کی ربوبیت اور پاک بندوں کی تربیت حاصل ہوتی ہے۔اور ان لوگوں کی فیض صحبت سے اپنے اعمال کو صیقل کئے ہوتے ہیں۔ان کی دنیا ہی نرالی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سچ فرمایا ہے کہ دنیا مومن کیلئے سجن ہے کیونکہ اس کو شریعت کی پابندی اپنے پر عائد کرنے کی پہلے تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔لیکن جب وہ حقیقی عبودیت حاصل کر لیتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ کا مصداق ہو جاتا ہے۔اور کامل اور مکمل عبد ہونے کی حالت وارد ہونے کے بعد فَادْخُلُوا فِی عِبَادِي وَادْخُلُوا جَنَّتِی کی پُر اسرار آواز سناتا ہے یہی کیفیت اس پاک بیوی کی تھی۔میں اس اعتراف پر مجبور ہوں کہ جب میں اپنی بیوی کی محبت اور وفا کو دیکھتا تو اکثر ورطۂ حیرت میں گم ہو جاتا ہوں۔وہ شہزادیوں کی طبیعت رکھتی ہیں۔ان میں نخوت و تکبر رائی برابر نہیں لیکن کبریائی ان میں دیکھتا ہوں۔جو حسد اور ریس سے بہت بالا تر ہے۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی کی شخصیت