اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 87 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 87

87 نتیجہ ہے۔میں آج سے پانچ سال قبل ختم ہو گیا ہوتا۔لیکن میرے بزرگوں، میرے عزیزوں، میرے مخلص دوستوں اور اس برادری کے افراد نے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دوسرے سے منسلک کر دیا ہے۔میری چلتی پھرتی تصویر انہی کی دعاؤں کا کرشمہ ہے جو انہوں نے مضطر بانہ اور بیقراری کے جذبہ کے ماتحت میرے لئے کیں۔انہوں نے مجھے اپنے مولیٰ کریم سے جو کہ تی و قیوم اور سمیع ہے مانگ کر ہی صبر کیا۔ایک مخلص بہن نے میری بیوی کو لکھا کہ جب انہوں نے میری تشویشناک حالت کو اخبار میں پڑھا تو وہ سجدہ میں گر گئیں اور اس قدر اضطراب اور بیقراری سے ان الفاظ میں دعا کی کہ جب تک اے میرے مولیٰ تو مجھے ان کی صحت کے متعلق مطمئن نہیں کر دیتا۔میں تیرے حضور سے سر نہیں اٹھاؤں گی۔چنانچہ جب ان کو تسلی مل گئی تو پھر انہوں نے بارگاہ ایزدی سے سر اٹھایا۔پھر یہی ایک مثال نہیں۔اب مجھے اکثر بھائی ملتے ہیں اور ذکر کرتے ہیں کہ کس کس رنگ میں انہوں نے میرے لئے دعائیں کیں۔اور مجھے اللہ تعالیٰ سے لے کر ہی صبر کیا۔خدا کی اس عنایت اور مہربانی کا میں جس قدر بھی شکریہ ادا کروں وہ کم ہے۔میں کیا اور میری ہستی کیا۔میں نے اپنی قریباً ساٹھ سالہ زندگی میں ان کیلئے کیا کیا ؟ یہ محض حضرت مسیح موعود کی صاحبزادی کے طفیل ہے۔یہ تڑپ، یہ دلسوزی ، یہ بیقراری محض اس واسطے تھی۔یہ اس محبت اور خلوص کا کرشمہ ہے جو اس والہانہ محبت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے انہوں نے صاحبزادی کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا اور بیقرار ہو ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑائے اور مجھے اس بیماری سے نجات دلا دی۔پھر میں کس کس بات کا شکر یہ ادا کروں یہ میری خوش نصیبی سمجھے یاحسن اتفاق کہ اس کڑے وقت میں سارا خاندان ایک جگہ اکٹھا تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ اس بیماری کے دوران میں مہربانی فرماتے رہے۔ان کی خاص دعاؤں کا مورد بنا رہا۔کہ انہوں نے میرے اچھا ہونے سے بہت پہلے خواب میں مجھے پورا صحت یاب دیکھا۔پھر حضرت اماں جان جو کہ میرے لئے ماں سے بڑھ کر تھیں۔میں اپنی ماں کی محبت سے محروم تھا کیونکہ میں بچہ ہی تھا کہ وہ فوت ہوگئیں لیکن اس کمی کو حضرت اماں جان کی محبت نے پورا کر دیا۔جب میری طبیعت زیادہ خراب ہوتی تو فوراً میری چار پائی کے پاس آن کر بیٹھ جاتیں۔نہ صرف دعا کرتیں بلکہ ان کا پُر سکون چہرہ اور پُر امید چہرہ میرے لئے ایک بیش بہا آسرا اور سہارا ہوا کرتا تھا۔ان کی موجودگی ایسی قوت ارادی پیدا کرتی کہ