اصحاب احمد (جلد 12) — Page 71
71 میری بیوی کو بشارات دے کر میری ڈھارس بندھاتا رہا۔1940ء میں ہماری اسٹیٹ گورنمنٹ کی ساٹھ ہزار روپیہ کی مقروض تھی۔مزید برآں میں کاٹن کی تجارت کر بیٹھا۔مجھے اس میں ساٹھ ہزار روپیہ کا مزید نقصان ہو گیا۔حالات نہایت مایوس کن تھے۔میری بیوی نے اس وقت خواب میں دیکھا کہ میں کہہ رہا ہوں کہ نقصان میرے حق میں بہتر ہوگا۔اللہ تعالیٰ کی کرشمہ نمائی دیکھو۔چھ ماہ کے اندر اندر اللہ تعالیٰ نے میری لیز (Lease) کی توسیع مزید پانچ سال کیلئے کرا دی اور اس کے علاوہ دہلی میں مجھے سپلائی کا کام مل گیا اور اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل سے وہ تمام کا تمام بار ایک سال کے اندر دور ہو گیا الحمد للہ۔لیز کی توسیع اس سال سے شروع ہوتی ہے۔اس سے جو فائدہ ہوگا۔وہ بہتری ہی بہتری ہے۔اس کے علاوہ سپلائی میں جو کام ہو رہا ہے۔وہ میرے لئے مزید بہتر ہی بہتر ہے۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنی ذرہ نوازی سے کیسا اس خواب کو پورا کیا۔پھر انہی دنوں میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ مصیبت اور مشکلات تیری کسی ناراضگی کا موجب تو نہیں۔اگر میری کوتاہی کی وجہ سے ہیں تو مجھے آگاہ کرتا کہ میں اصلاح کروں۔میرے پیارے مولیٰ نے ایک رات میری زبان پر یہ الفاظ جاری کئے۔وَالضُّحى لا وَالَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى ، وَلَلَا خِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأَوْلَى وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّک فَتَرْضی۔کہ اللہ تعالیٰ نے عروج و زوال انسان کے ساتھ رکھے ہوئے ہیں وہ نہ تجھ پر ناراض ہوا ہے اور نہ تجھ کو اس نے چھوڑا ہے۔تیری آخرت تیری پہل سے اچھی ہوگی۔عنقریب تیرا رب تجھے اس قدر دے گا۔کہ تو راضی ہو جائے گا۔یہ الفاظ میں نے اس وقت سنے جبکہ یہ زمین اپنی وسعت کے باوجود میرے لئے تنگ تھی۔ہر طرف مایوسی ہی مایوسی نظر آتی تھی۔لیکن میں ان مشکلات اور مصائب میں ایک پہاڑ کی طرح کھڑا تھا۔اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کرم کا امیدوار تھا۔آخر اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔آج اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل سے اس کی ذرہ نوازی اور عنایت سے میں قدرت رکھتا ہوں۔کہ اس تمام رقبہ کو خرید سکوں۔0 اب دیکھو اللہ تعالیٰ کا کس قدر احسان ہے کہ اس نے صرف مجھے دنیا ہی نہیں دی بلکہ اپنے بیشمار رحم اور کرم فرما کر حقیقی معنوں میں مجھے عبداللہ بنا دیا۔آج میرا دل شکریہ اور اس کی محبت سے لبریز ہے۔میرا دل چاہتا ہے جو کچھ میرا ہے وہ سب اس کی خاطر قربان ہو جائے اور میں اسی کا ہو کر رہ آپ نے یہ رقبہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خرید لیا تھا۔مولف