اصحاب احمد (جلد 12) — Page 70
70 نواب شاہ میں رقبہ حاصل کیا اور سندھ کے حالات پر نظر ڈالی۔تو کیا بلحاظ قابلیت اور کیا بلحاظ بدنی استعداد میں نے اپنے آپ کو زمیندارہ کام کے بالکل نااہل پایا۔لیکن میں ضرورت مند تھا۔میں نے یہ کام ضرور کرنا تھا۔اس لئے میں نے اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے اپنی جبیں اس رحیم و کریم ہستی کے آستانہ پر رکھ دی جو ہر ایک بے کس بے بس انسان کا سہارا اور آسرا ہے۔میں نے عرض کی۔اے میرے اللہ ! مجھے دماغ دے کہ میں اس کام کے کرنے کی عقل و سمجھ نہیں رکھتا۔اے میرے مولیٰ ! مجھے باز و دو جو کہ اس کام کے کرنے میں میری امداد کر سکیں۔اے قادر توانا! مجھے پاؤں دو جو کہ میرے لئے چلیں کیونکہ میں کمزور ہوں۔اللہ تعالیٰ نے میری اس دعا کو سنا اور قبول فرمایا۔آج 1943ء ہے، دس سال گزر چکے ہیں سب لوگ جانتے ہیں کہ میری ذات نے اس کام کی سرانجام دہی میں کیا کام کیا ہے۔لیکن محض اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل سے میرے رقبہ کے نتائج دوسرے اچھے رقبوں سے اچھے نہیں بلکہ بہتر رہتے رہے ہیں۔خدا تعالیٰ نے عجیب در عجیب رنگ میں میری مشکلات کو دور کیا مجھے ہر رنگ میں نوازا۔میری اس قدر پردہ پوشی فرمائی جس کا اندازہ سوائے میری ذات کے کوئی نہیں لگا سکتا۔میرے پیارے رب کے رحم و کرم کا اندازہ آپ لوگوں کو اسی وقت ہوسکتا ہے کہ میرے اندرونی حالات کا آپ کو علم ہو اور ان مشکلات کا آپ کو علم ہو جن میں سے میں ایک وقت گزرا تھا۔لیکن جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی ستاری کی چادر میں ڈھانپا ہوا ہے۔میں مناسب نہیں سمجھتا کہ اپنی پردہ دری خود کروں۔آپ صرف ان نوازشات کو دیکھ کر میرے ساتھ شکریہ میں شامل ہوں جن کو میرا رب مجھ پر پیہم برسا رہا ہے۔جب میں نے نواب شاہ سے یہاں آنے کیلئے استخارہ کیا کہ کیا میں اس رقبہ کو حاصل کروں یا نہ۔تو اس دعا اور استخارہ کے نتیجہ میں میں نے ایک لرزا دینے والی آواز سنی جو کہ میرے اپنے وجود میں پیدا ہورہی تھی۔کہ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔اس رقبہ کو لینے کے بعد کس قدر مایوس کن حالات پیش آئے وہ لوگ جو اس وقت میرے ساتھ تھے وہ جانتے ہیں کہ کس قدر مشکلات کا سامنا تھا۔بسا اوقات میں خود یہ محسوس کرتا تھا کہ میں سندھ میں نہ رہ سکوں گا۔لیکن خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ مجھے عزت دے گا اور اپنی قدرت نمائی دکھائے گا۔میری ہر ایک دقت اور مصیبت میرے لئے ایک سیڑھی تھی۔جو کہ مجھے رفعت اور بلندی کی طرف لے جاتی رہی۔اس زمانہ میں میرے مولیٰ نے اپنی رحمت اور شفقت کا سلوک نہیں چھوڑا۔بار بار مجھے اور