اصحاب احمد (جلد 12) — Page 63
63 کر دیئے۔اور وہ یہ کہ نِسَآءُ كُمُ حَرُثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ۔عورتیں تمہاری کھیتی ہیں۔پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ کھیتی سے کیا غرض ہے۔بس یہی کہ اناج پیدا ہو ) اور اس اناج سے فائدہ اٹھایا جائے۔پس عورتیں کھیتی ہیں ان سے اولاد لی جائے۔بس غرض شادی کی اصل اولاد ہے۔پھر یہ تعلقات زن وشوی کی حد یہاں تک ہونی چاہئے ( کہ ) اولا د ہو۔پس حیض حمل رضاعت میں اجتناب لازم ہے۔حیض کی بابت تو صاف حکم دیا اور تمدن انسانی کی مشکلات کی وجہ سے حمل و رضاعت کے متعلق اس آیت بالا میں لطیف طرز سے بیان کر دیا اور ایک جگہ مدت کا بھی اشارہ فرما دیا کہ حَمُلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهُرا۔پس اسی حد تک استعمال قوی ہے جہاں تک اولاد حاصل ہو۔اور بس۔اور مواقع ایسے ہیں کہ اولاد کی غرض نہ ہو تو اس سے پر ہیز لازم۔قیام صحت و عافیت بھی لازمی امر ہے۔جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔انسان چونکہ متمدن مخلوق ہے۔اس لئے اس کے بیوی بچوں سے تعلقات بھی لمبے ہوتے ہیں۔اس لئے بیوی کو تسکین کا باعث بتلایا ہے اور اس میں بھی بہت حکمتیں ہیں۔بیوی سے حسن سلوک کا حکم فرمایا ہے۔پس ان امور کے متعلق مجھ کو پوری طرح لکھنے کا وقت نہیں میں نے ایک رسالہ بنوایا ہے۔تم کو بھیجتا ہوں اس کو پڑھ لو اور یہ خط اور وہ محفوظ رکھو۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا اور توفیق اللہ تعالی نے دی تو میں اپنی طرز پر اس کو مرتب کروں گا۔بعض جگہ میں نے نشان لگا دیئے ہیں وہ سر دست واجب العمل باتیں ہیں ان کا لحاظ لازمی ہے۔اب میں آخر میں چند امور اور لکھنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ دین کے لحاظ سے یاد نیا کے لحاظ سے جو بڑے ہوں ان سے تعلقات میں بہت مشکلات ہوتی ہیں میری شادی بھی دین کے لحاظ سے ایک بڑے مقدس محبوب الہی کی بیٹی سے ہوئی ہے اور اسی کی بیٹی سے تمہاری۔یہ ایک بڑا مشکل مرحلہ ہے اس کا نبھانا سوائے اللہ تعالیٰ کے فضل کے نہیں ہو سکتا۔پہلے اللہ تعالیٰ کے حکم کی فرمانبرداری کہ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءَ اور يَأَيُّهَا ير عمل الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارَا اور حدیث كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِه ر ہونا چاہئے۔یعنی بیوی مرد کی محکوم ہو اور مرد حاکم ہو۔دوسری طرف حسن سلوک کا حکم۔اللہ تعالیٰ فرماتا (ہے) کہ اگر تم کو بیوی میں کچھ نقص بھی معلوم ہو تو میری خاطر درگزر کرو۔عَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمُ اور حدیث میں ہے خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَاهْلِهِ اور پھر یہ کہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔پس اگر تو اس کو سیدھا کرنا چاہو تو یہ ٹوٹ جائے گی۔پس جس قدر مشکل