اصحاب احمد (جلد 12) — Page 61
61 پیشتر اس کے کہ میں تامل کے متعلق کچھ تحریر کروں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ پہلے یہ بتاؤں کہ انسان کے پیدا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے کیا غرض بتلائی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون - غرض خلقت جن و انس کی عبادت بتلائی ہے۔یعنی انسان کی پیدائش کی غرض عبادت ہے اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرے۔اسلام بھی اسی کا مترادف ہے کیونکہ اسلام کے معنی بھی فرمانبرداری کے ہیں۔چنانچہ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اسلم فرمانبردار بن جا۔وہ مقدس وجود جواب میں فرماتا ہے۔اَسلَمُتُ میں فرمانبردار بن گیا۔چونکہ غرض پیدائش انسان فرمانبرداری اللہ تعالیٰ ہے اور فرمانبرداری دو طرح ہی ہوتی ہے۔ایک یہ خبر اور ایک بہ محبت جو فرمانبر داری جبر سے کرائی جاتی ہے وہ اصلی نہیں ہوتی اور جب موقع لگتا ہے ایسے لوگ جو جبر سے مطیع کئے جاتے ہیں۔اطاعت کو چھوڑ دیتے ہیں۔مگر جو لوگ اپنی نشاط طبع اور دلی میلان اور محبت سے اطاعت کرتے ہیں۔ان کی اطاعت مستحکم ہوتی ہے اور وہ فرمانبرداری پوری طرح سے کرتے ہیں اسی لئے انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالی خوش خلقی کی ہدایت فرماتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں حضرت رسول کریم ﷺ کو فرماتا ہے۔کہ اگر تو بد مزاج اور سخت دل ہوتا تو تیرے قریب بھی کوئی نہ پھٹکتا اور فرمایا کہ مومنوں کیلئے اپنے کاندھے جھکا دے اور یہی وجہ ہے کہ شریعت میں جبر وا کراہ نہیں رکھا۔تا لوگ محبت قلبی سے انبیاء کی اطاعت کریں اور شریعت کو نشاط طبع کے ساتھ اختیار کریں۔لَا إِكْرَاهَ فی الدین۔اور اگر جبر سے اطاعت کرائی جائے تو پھر اطاعت کرنے والے میں عمدہ اخلاق نہیں پیدا ہو سکتے اور نہ وہ ترقی کر سکتا ہے۔دیکھ لو، غلاموں اور جولوگ جبراً مطیع کئے جاتے ہیں ان کے اخلاق ہمیشہ رذیل ہوتے ہیں۔حیوانات کو دیکھ لو کہ ان کی فطرت ہی اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ وہ مجبور ہیں کہ اپنی فطرت کے مطابق کام کریں اس لئے وہ ترقی بھی نہیں کر سکے۔مگر انسان جس کو خداوند تعالیٰ نے گوحیوان بنایا مگر اس میں سیکھنے کا مادہ رکھ دیا اور ایک حد تک آزاد بنادیا۔اور جبراًاس سے کام لینا نہ چاہا۔اس لئے وہ ترقی کرتا ہے اور یہاں تک خدا نے اس کو ترقی کا سامان رکھ دیا کہ وہ خلیفۃ اللہ بنا۔پس اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان محبت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرے اور نشاط طبع سے اطاعت گزار ہو اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ اپنی محبت کا محیط اللہ تعالیٰ کو ہی صرف قرار دے، کوئی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت پر غالب نہ آئے۔اللہ تعالیٰ ہی محبوب ہو۔تمام فانی چیزوں سے منہ موڑ لے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے امید دلا کر بھی اطاعت کا حکم فرمایا۔چنانچہ فرماتا ہے کہ میں نے