اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 59 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 59

59 بندگان جناب سر بسر تاج حضرت دار می بینم آپ ان کی (کے۔ناقل ) حضرت کے غلام ہیں۔کیا یہ آپ لوگوں کیلئے کچھ کم سعادت ہے کہ روحانی رنگ میں آپ کو تاجدار کہا گیا ہے۔اب فرمائیے کہ حضرت مسیح موعود کے دیکھنے والا انسان کس سعادت کا مستحق ہے۔پھر جس نے آپ کو دیکھا اور آپ کے ہاتھ سے ہاتھ ملا یا اس کا کیا درجہ ہے؟ پھر ایک اور گروہ ہے جو سعادت میں بہت ہی بڑھ گیا ہے۔اس میں ایک وہ مبارک انسان ہے جس کے ہاں حضرت مسیح موعود کا علاوہ روحانی تعلق کے خونی رشتہ کا بھی تعلق ہے یعنی اسے دامادی کا فخر حاصل ہے اور اس نبی سے تعلق ہے جو جَرِ اللهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِياءِ ہے اور جس کی پیشگوئی کئی انبیا ء کرتے آئے ہیں۔اور جس کی صداقت کو آسمان اور زمین کے جلالی اور جمالی رنگ کے آیات اور مختلف حالات کے واقعات اور انقلابات بڑے زور سے ظاہر کر رہے ہیں۔اور جو کہتا ہے کہ آسمان اور زمین میرے لئے نئے بنائے جائیں گے۔آپ نے تمثیلی انکشاف کے ذریعہ ایسا ہی دیکھا اس کے مطابق اب جو تغیرات دنیا میں ہوں گے ان کا بہت بڑا موجب حضرت مسیح موعود کا وجود اور ظہو رہی ہے آپ کا الہام لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک ہے۔اگر آپ نہ ہوتے تو یہ جو ذرات عالم کی موجودہ رفتار اور گردش ہے۔یہ بھی نہ ہوتی۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تو نہ ہوتا تو یہ بھی نہ ہوتے۔یہ دنیا کی رفتار اور طرز تیری ہی نصرت اور تائید کیلئے ہے۔اب بتلاؤ کہ ایسے عظیم الشان انسان کا ایسا لخت جگر اور خونی رشتہ جو صرف مبارک احمد کے رنگ میں ہی نہیں بلکہ بجائے خود بھی ایک عظیم الشان نشان ہے۔جس انسان کے ساتھ ہوگا۔وہ کتنا خوش نصیب ہوگا۔وہ تو اگر اس نعمت کے بدلے تمام عمر سجدہ شکر میں پڑار ہے۔تو بھی میرے خیال میں شکر ادا نہیں کر سکتا۔اور نعمتوں اور انعاموں کو جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ کسی کو ملیں ان کو جانے دو۔صرف یہی ایک عظیم الشان نعمت اور فضل کیا کم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک دفعہ دیکھنے اور آپ کے چہرہ مبارک پر نظر ڈالنے کا موقعہ مل گیا۔اور اگر کوئی ساری عمر اس نعمت کا شکریہ ادا کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔پھر ہم سے کب شکر یہ ادا ہو سکتا ہے۔جنہوں نے آپ کو بار بار دیکھا اور مدتوں آپ کی صحبتوں اور مجلسوں سے حظ اٹھایا ایک تو یہ ہم ہیں اور ایک اور ہیں جن کو اس سے بھی بہت بڑی سعادت نصیب ہوئی ہے۔