اصحاب احمد (جلد 12) — Page 45
45 خاں کی اور امتہ الحفیظ کی چھوٹی۔اتنا عرصہ انتظار مشکل اور پھر معلوم نہیں کہ بچے احمدی رہیں گے یا ان کے کیا خیالات ہوں گے۔اس لئے میں جرات نہیں کرتا تھا۔بلکہ میں نے دوسری جگہ ( رشتہ۔ناقل ) قائم کر دیا۔مگر وہ رشتے ٹوٹ گئے اور جس قدر جلد میں شادی ان بچوں کی کرنا چاہتا تھا۔وہ نہ کر سکا اور التوا ہو گئی۔اس پر مجھ کو خیال آیا کہ اب انتظار تو کرنا ہی پڑا۔اب کیوں نہ امتہ الحفیظ صاحبہ کا ہی انتظارنہ کروں۔اور اس طرح بعض رویا بھی پورے ہو جائیں گے۔مگر بچوں کے خیالات سے ڈرتا رہا۔اب چونکہ کسی قدر عبد اللہ کی بابت اطمینان پیدا ہو گیا۔اور ادھر سنا کہ حضرت ام المومنین علیہا السلام امتہ الحفیظ کے رشتہ کے متعلق فکر مند ہیں تو مجھ کو خیال آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی جگہ خطبہ ہو جائے اور اس وقت میں کچھ عرض بھی نہ کر سکوں۔اس لئے میں نے یہ جرات کی کہ اس رشتہ کی تحریک پیش کر دی۔چہارم :۔مجھ کو یہ خیال ضرور رہا ہے کہ امتہ الحفیظ کا وہ اٹھان بظاہر اس وقت نظر نہیں آتا جو اکثر حضرت اقدس کی اولاد کا ہے۔بلکہ کچھ کمزور معلوم ہوتی ہیں اور پھر چھوٹی عمر میں لڑکیوں کے رشتوں سے ان کی آزادی میں فرق آجاتا ہے اور اتنا عرصہ انتظار کرنے میں ممکن ہے کہ لڑکے کا چال چلن ٹھیک نہ رہے۔اور اس خیال سے میں ( نے ) کسی احمدی کے ہاں رشتہ اپنے بچوں کا کرنے میں بہت زور نہیں دیا۔کیونکہ گو میرے لڑکے ہیں۔مگر میرا دل تو وہ نہیں رکھتے۔مگر غیر احمدیوں سے تعلقات میں ان کے ایمان کو خطرہ میں پاتا تھا۔اس لئے میں کچھ عجیب تذبذب میں تھا اور ہوں اور اسی لئے بدرجہ اولیٰ میں حضرت اقدس کی اولاد کے متعلق اور بھی محتاط رہا ہوں اور ہوں اور اب بھی بہت عہد و پیمان کے بعد اور ایک لڑکے کو عرصہ تک آزمانے کے بعد پیش کیا ہے چنانچہ اس کے خطوط اور اپنے خطوط جو اس بارہ میں لکھے گئے ہیں۔ارسال حضور ہیں ایک خیال نے مجھ کو اور بھی مجبور کیا کہ موت وحیات کا پتہ نہیں بقول حضرت اقدس فی التاخیر آفات۔میں نے اپنی زندگی میں اس تعلق کو پسند کیا اور ان ہی مصالح سے مجھ کو ان دنوں اور ضرورت محسوس ہوئی۔نجم:۔حضرت خلیفہ اسیح اول مولانا مولوی نورالدین صاحب مرحوم نے بھی اشارہ اس رشتہ کے متعلق فرمایا تھا۔چنانچہ عبد اللہ کے خط سے ظاہر ہو گا اس نے بھی جرات کو بڑھایا۔ششم :۔اس خیال کی تردید کہ لڑکی کی آزادی رک جاتی ہے اور اسی خیال سے زینب کا رشتہ میں نے جلدی نہیں کیا۔مگر میں نے دیکھا کہ ہندوستان کی لڑکیوں میں فطرتاً آزادی طبیعت میں نہیں۔یا یوں کہنا چاہئے کہ عورت ذات میں فطرتا آزادی نہیں میں نے زینب کو بارہ برس کی عمر تک پردہ