اصحاب احمد (جلد 12) — Page 43
43 مجھے کو پوری طرح مطمئن کرو۔میں سوائے اس کے اور کسی خیال سے نہیں لکھتا۔صرف اپنے اطمینان قلب کیلئے لکھا ہے۔اور مزید احتیاط کے طور سے کیونکہ بھاری ذمہ داری ہے اس لئے ایک دفعہ اور تم سے پوچھنا مناسب سمجھا۔یاد دہانی آپ نے دو ہفتہ بعد ذیل کا خط لکھا:۔راقم محمد علی خاں دار السلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 25 مئی 1914ء سیدی حضرت خلیفۃ المسیح علیہ السلام مکرم معظم سلمکم اللہ تعالٰی :- السلام علیکم۔ایک عریضہ حضور کی خدمت میں دربارہ رشتہ امتہ الحفیظ پیش حضور کیا تھا۔مگر تا حال جواب با صواب سے سرفراز نہیں ہوا۔جس سے گمان غالب تھا کہ استخارہ ومشورہ کے سبب جواب میں تاخیر ہوئی۔اور غالباً میر محمد اسمعیل صاحب کے آنے کا بھی انتظار ہوگا۔اب میر صاحب بھی آکر چلے گئے۔مگر جواب کے متعلق ہنوز روز اول۔ابھی یہ معلوم ہی نہیں کہ حضور کی جانب سے انکار ہوگا یا اقبال۔مگر تمام جگہ شہرت عام ہوگئی۔خواہ یہ ہماری جانب سے کسی کی بے احتیاطی ہوگئی یا اس طرف سے اور گو اس شہرت کا چنداں خیال نہیں اور میرے جیسی طبیعت والے کو تو چنداں تر در نہیں ہوتا۔مگر ایسی شہرت کا اثر بچوں پر سخت ناگوار پڑتا ہے۔عبدالرحمن کو جو ابتلا آئی ہے وہ ایسی ہی شہرت کی وجہ سے ہے۔اس لئے بہر حال اس امر کا فیصلہ ہو جانا چاہئے۔تا کہ لوگ خواہ مخواہ کی مبارک بادوں سے رک جائیں۔چونکہ ابھی یہ معاملہ گومگو میں ہے اور اگر میرے ہاں سے یہ رشتہ کی گفتگو نہ ہوتی تو ضرور تھا کہ میں بھی شاید مشورہ دینے کی عزت حاصل کر سکتا۔مگر چونکہ یہ معاملہ میری ہی جانب سے اٹھا ہے اس لئے حضور مشورہ میں شریک نہیں فرما سکے۔مگر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ خواہ مخواہ دخل در معقولات کی معافی چاہ کر کچھ عرض کروں تا کہ اس معاملہ میں حضور کو اور حضرت ام المومنین علیہا السلام کو رائے قائم کرنے کا زیادہ موقع مل جائے اور ممکن ہے کہ عمدہ نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ مددگار ہو اور اللہ تعالیٰ خاص اپنے فضل سے اس میں برکت ڈال دے۔اول :۔چونکہ اس رشتہ کی تحریک دراصل میں 1908ء میں بحضور حضرت مسیح موعود علیہ السلام