اصحاب احمد (جلد 12) — Page 33
33 خراب نہ کر لیں۔اسی وجہ سے عرصہ تک ہمیں سکول میں داخل نہ کیا گیا ، 0 مدرسہ میں داخلہ (اصحاب احمد جلد دوم ص 388) میاں عبدالرحیم خاں صاحب خالد بیان کرتے ہیں کہ :۔جب ہم ذرا اور بڑے ہوئے ہماری مدرسہ کی زندگی شروع ہوئی۔میاں عبداللہ خان کا مذہبی رجحان بڑھ چکا تھا۔یہ نمازوں وغیرہ میں مجھ سے بہت زیادہ پیش پیش تھے۔ان کو بحث و تمحیص کا بہت زیادہ شوق تھا۔مدرسہ میں آتے ہی اپنی اپنی طبیعت کے مطابق اپنے ساتھیوں کے انتخاب کا ہمیں موقع ملا۔والد صاحب نے مدرسہ میں ایسا انتظام کرایا تھا کہ ہم دونوں بھائیوں کا ڈیسک ایک ہی ہو۔پہلے روز جب ہم مدرسہ گئے۔ڈرل کا وقت ہوا۔سب لڑکے کمرہ سے نکل کر ماسٹر ماموں خان صاحب ڈرل ماسٹر کے پاس جمع ہو گئے۔ہم دونوں بھائیوں کو ڈرل سے معافی تھی۔ایک لڑکا چھوٹے سے قد کا ہم سے مخاطب ہوکر پوچھنے لگا کہ کیا تمہیں ڈرل معاف ہے اس لڑکے کے بغل میں ایک بہت بڑی کتاب تھی۔میں نے ڈرتے ڈرتے ان صاحب سے دریافت کیا کہ یہ کون سی کتاب ہے تو وہ بولے کہ یہ مشکوۃ ہے۔بعد میں معلوم ہوا کہ یہ غلام فرید نامی بچہ ہے۔مگر انہیں سب لڑکے بابا جی کہہ کر پکارتے تھے۔چنانچہ ہم بھی آج تک اسی نام سے یاد کرتے ہیں۔یہ ساتویں جماعت تھی۔اور بابا جی ہمارے مانیٹر تھے۔میاں عبداللہ خاں پر اس وقت ایسا اثر ہوا کہ اس وقت سے تا وفات یہ دونوں یک جان و دو قالب بنے رہے۔اور مجھ پر یہ اثر ہوا کہ میں ان کی قابلیت سے مرعوب ہوگیا اور یہ اثر مجھ پر آج تک قائم ہے۔بابا جی کی دوستی مجھ سے بھی ہے۔مگر میاں عبداللہ خاں سے دوستی اور رنگ کی تھی۔الفضل میں مرقوم ہے۔یہ خبر مسرت سے پڑھی جائے گی کہ عبدالرحیم خاں وعبداللہ خاں علاوہ فورتھ ہائی کی تعلیم کے سات پارے حفظ کر چکے ہیں۔آخر الذکر عزیز کا نمونہ قابل قدر ہے۔جو اس جاڑے میں دن چڑھنے سے پون گھنٹہ پیشتر ایک میل کے فاصلہ سے یہاں قرآن مجید پڑھنے کیلئے پہنچ جاتا ہے۔اس سے زیادہ ہر دو حفظ نہیں کر سکے۔الفضل 21 جنوری 2014ءص1 ) اصحاب احمد جلد دوم ص 518)