اصحاب احمد (جلد 12) — Page 210
210 جب تک میں آپ کے پاس پہنچ نہ گئی ، آپ کو تسلی نہ ہوئی۔آپ کو نماز سے عشق تھا۔آپ بہت سوز و درد اور توجہ سے نماز ادا کرتے۔تہجد کے ہمیشہ سے عادی تھے۔بہت دعائیں کرنے والے تھے۔ہمیشہ صحابہ کرام اور بزرگوں سے دعائیں کرواتے۔حضرت مسیح موعود کے درمشین کے آمین والے دعائیہ اشعار بہت کثرت سے اور درد سے پڑھتے اور اپنی اولاد کو نماز اور دعاؤں کی تاکید کرتے۔آپ کا ایک اور وصف مہمان نوازی تھا۔آپ ہمیشہ کوشش کرتے کہ اپنے پاس آنے والے ہر شخص کی خاطر تواضع کریں۔دعوتیں دینے کا بھی آپ کو بہت شوق تھا۔اب تو اپنی بیماری کی وجہ سے مجبور ہو گئے تھے اور کہتے تھے کہ تمہاری امی پہلے ہی میری خدمت کر کے تھک کر چور ہو گئی ہیں۔مگر قادیان میں جب آپ صحت مند تھے۔آپ بہت شوق سے دعوتیں کرتے تھے اور ایام جلسہ سالانہ کیلئے آپ مہینہ بھر پہلے ہی تیاریوں میں مصروف ہو جاتے۔اور ان ایام میں تو ہمارے ہاں اتنے مہمانوں کو آپ مدعو کرتے کہ ایک شادی کا ساہنگامہ دکھائی دیتا۔اور آپ ان کی خاطر تواضع کر کے بہت خوشی محسوس کرتے اور فرماتے کہ یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت ہے اور یہ سارے حضور ہی کے مہمان ہیں۔ان کی خدمت کرنا عین سعادت ہے۔آپ غریب نواز بھی بہت تھے ہر غریب اور ضرورت مند کو دیکھ کر آپ کا دل پگھل جا تا اور آپ حتی الامکان اس کی ضرورت پوری کرتے اور تکلیف میں اس کا ہاتھ بٹاتے اور اس میں خوشی اور سکون محسوس کرتے۔فرماتے ہمسائے کا بہت حق ہوتا ہے۔ہمسایہ کا بہت خیال رکھنے کی امی کو تاکید ہوتی۔جب کوئی اچھی چیز پکتی یا باہر سے آتی۔اپنے ہمسایہ میں بھجواتے۔ایک ملازم ، رضاعی بھائی کا ایک لڑکا تھا، وہ گھر میں تھا۔اس کی یتیمی کی وجہ سے آپ کو اس کا بہت احساس تھا۔کھانے کی میز پر اکثر پہلے اسے کھانا دیتے اور جب بھی کوئی نیا پھل آتا پہلے اسے دیتے۔آپ نہایت ہمدرد اور محبت کرنے والا دل رکھتے تھے۔خادموں سے بھی آپ کا سلوک بہت ہمدردانہ تھا۔آپ جانوروں تک کا بہت خیال رکھتے تھے۔اکثر اپنے ہاتھ سے جانوروں کو دانہ ڈالتے اور ان کے پانی کا خیال رکھتے۔گھر میں حفاظت کیلئے جو کتا وغیرہ رکھا ہوتا۔اسے بھی اپنے ہاتھ سے کھا نا ڈالتے۔سلسلہ کے ساتھ آپ کو بہت ہی عقیدت تھی۔آپ چندے ہمیشہ دل کھول کر دیتے اور فرماتے کہ چندے میں کبھی بخل نہ کرو۔یہ تو خدا تعالیٰ سے سودا ہے۔جو چندہ دیتا ہے وہ کبھی گھاٹے میں نہیں