اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 202 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 202

202 اور پریشانی کا دل پر دہرا اثر اور مزید برآں دن رات کام ہی کام۔راولپنڈی سے واپسی رات کو ہوئی اور صبح کو ابا جان تیار ہو کر دفتر تشریف لے جا رہے تھے کہ گیٹ پر بیہوش ہو کر گر گئے۔پہریدار ابا جان کو اٹھا کر لائے۔امی جان تو تھیں نہیں۔اسی وقت حضرت بڑے ماموں جان ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی) ، حضرت اماں جان اور خالہ جان ( حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحب) اور موجود تمام لوگ اکٹھے ہو گئے۔ہمارے بھائی ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب اور ڈاکٹر کریم بخش صاحب نے ( جو آج کل امریکہ میں ہارٹ سپیشلسٹ ہیں ) ابا جان کی زندگی بچانے کیلئے کوششیں شروع کر دیں۔نبض ساقط ہو چکی تھی۔اور بظاہر حالات زندگی کی کوئی امید نہ تھی۔بظاہر تمام حالات سے مایوس ہوکر ڈاکٹر کریم بخش صاحب نے اسی حالت میں کو رامین کا ایک ٹیکہ دل میں لگایا۔یہ ٹیکہ بہت مشکل ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال تھا۔وہ دل جو قریباً بند ہو چکا تھا۔اس میں پھر دھڑ کن پیدا ہوگئی۔ساکن نبضیں پھر میرے رحیم و کریم اور شافی خدا کے فضل و کرم سے آہستہ آہستہ لوٹنی شروع ہو گئیں۔ابا جان برآمدہ میں بے ہوش پڑے تھے۔ڈاکٹر ان پر جھکے ہوئے اپنی سی کوششیں کر رہے تھے۔ہم سب بہن بھائیوں کے دل غم اور اندیشوں سے دھڑک رہے تھے۔یا اللہ! ہماری زندگی ابا جان کو دے دے۔یا اللہ ! امی جان جلد پہنچ جائیں۔ڈاکٹروں کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر دل غم اور مایوسیوں کے سمندر میں ڈوب رہے تھے اور اس خیال سے ہی دل کے ٹکڑے ہورہے تھے کہ امی جان اتنی دو ر اس خبر کو کس طرح سنیں گی۔اور ہر سانس کے ساتھ ابا جان کی زندگی اور امی جان کیلئے دعا ئیں تھیں کہ وہ آپ کی زندگی میں پہنچ جائیں۔حضرت اماں جان گھبرا گھبرا کر ٹہل رہی تھیں اور ہاتھ پھیلا پھیلا کر دعائیں کر رہی تھیں۔یا اللہ ! میرے عبداللہ خاں کو بچالے۔اور حضرت بڑے ماموں جان ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی) بھی اس عرصہ میں بار بارابا جان کے پاس آرہے تھے۔دعا بھی کر رہے تھے اور دوا بھی۔اس وقت کی انتہائی رقت اور درد میں ڈوبی ہوئی دعائیں میرے خدا تعالیٰ نے سن لیں۔اور وہ زندگی جو ڈاکٹروں کے نزدیک ختم ہو چکی تھی۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے ہمیں واپس کر دی۔پھر اس کے بعد ایک ڈیڑھ سال کس قیامت کا گزرا۔ابا جان زندہ تھے مگر ہر وقت موت کا دھڑ کا تھا۔ڈاکٹروں کے نزدیک یہ دل کا نہایت شدید دورہ تھا۔اور کارڈیوگرام سے ظاہر تھا کہ دل کے بہت بڑے حصہ کو بری طرح نقصان پہنچ چکا ہے۔لاہور کے تمام