اصحاب احمد (جلد 12) — Page 20
20 بھرے ہوئے دل کی کیفیت سمجھ سکیں۔اے قادر خدا ! ان کے دلوں میں آپ الہام کر۔۔۔۔۔جوامر میرے اختیار میں نہیں۔میں خداوند قدیر سے چاہتا ہوں کہ وہ آپ اس کو انجام دیوے میں مشاہدہ کر رہا ہوں کہ ایک دست غیبی مجھے مدد دے رہا ہے۔۔۔اور میں جو کہتا ہوں کہ ان الہی کاموں میں قوم کے ہمدرد مدد کریں۔وہ بے صبری سے نہیں بلکہ صرف ظاہر کے لحاظ اور اسباب کی رعایت سے کہتا ہوں ورنہ خدا تعالیٰ کے فضل پر میرا دل مطمئن ہے۔۔اب میں ان مخلصوں کا نام لکھتا ہوں جنہوں نے حتی الوسع میرے دینی کاموں میں مدد دی۔یا جن پر مدد کی امید ہے یا جن کو اسباب میسر آنے پر تیار دیکھتا ہوں“۔( حصہ دوم طبع اول ص 774 تا 777 ) حضور انتالیس احباب کے متعلق کم و بیش تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے آٹھویں نمبر پر نواب صاحب کے خاندانی حالات اور آپ کی سعادت کا تذکرہ ان الفاظ میں رقم فرماتے ہیں۔جبی فی اللہ نواب محمد علی خان صاحب رئیس خاندان ریاست مالیر کوٹلہ۔یہ ایک خاندان کے نامی رئیس ہیں۔مورث اعلی۔۔۔شیخ صدر جہاں ایک با خدا بزرگ تھے۔جو اصل باشندہ جلال آباد سروانی قوم کے پٹھان تھے۔1469ء میں عہد طفولیت بہلول لودی میں اپنے وطن سے اس ملک میں آئے۔شاہ وقت کا ان پر اس قدر اعتقاد ہو گیا۔کہ اپنی بیٹی کا نکاح شیخ موصوف سے کر دیا۔بہادر خاں کی نسل میں سے یہ جوان صالح خلف رشید نواب غلام محمد خاں صاحب مرحوم ہے جس کا عنوان میں ہم نے نام لکھا ہے۔خدا تعالیٰ اس کو ایمانی امور میں بہادر کرے اور اپنے جد شیخ بزرگوار صدر جہاں کے رنگ میں لاوے۔سردارمحمد علی خان صاحب ے۔۔ایک شائستگی بخش تعلیم پائی جس کا اثر ان کے دماغی اور دلی قومی پر نمایاں ہے۔ان کی خدا دا د فطرت بہت سلیم اور معتدل ہے اور باوجود عین شباب کے کسی قسم کی حدت اور تیزی اور جذبات نفسانی ان کے نزدیک آئی معلوم نہیں ہوتی ہیں۔قادیان میں جب وہ ملنے کیلئے آئے اور کئی دن رہے پوشیدہ نظر سے دیکھتا رہا ہوں کہ التزام ادائے نماز میں ان کو خوب اہتمام ہے اور صلحاء کی طرح توجہ اور شوق سے نماز پڑھتے ہیں اور منکرات اور مکروہات سے بکلی مجتنب ہیں۔مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو کہ با وجود بہم پہنچنے تمام اسباب اور وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوان جوانی میں ایسا پر ہیز گار ہو۔معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بتوفیقہ تعالیٰ خود اپنی اصلاح پر آپ زور دے کر رئیسوں کے بے جا طریقوں اور چلنوں سے نفرت پیدا کر لی ہے۔اور نہ صرف اسی قدر بلکہ جو کچھ نا جائز خیالات اور