اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 188 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 188

188 یوں تو اولاد کیلئے ہر باپ ایک عزیز ترین وجود ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔مگر ہمارے ابا جان ہم سب کو بے حد پیارے تھے۔اس لئے بھی کہ شاید ہی کبھی کسی باپ نے اپنی اولاد سے ایسی محبت کی ہو جو وہ ہم سے کرتے تھے۔خدا کی بے انتہا رحمتیں ہر لمحہ ہر لحظہ اور ہر آن ان پر نازل ہوں۔جن کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔آج اتنا عرصہ گزر جانے پر بھی میرے لئے ان کے متعلق لکھنا مشکل ہو رہا ہے۔میں ان کی کس کس خوبی کا ذکر کروں۔ان کی آخری بیماری کے ایام میں ایک دن میری چھوٹی بہن فوزیہ مجھے کہنے لگی۔بڑی آپا میں جب ابا ( ہمارے دونوں چھوٹے بہن بھائی ابا جان کو ابا کہتے تھے ) کے متعلق سوچتی ہوں تو صرف ابا سمجھ کر نہیں بلکہ ایک انسان کی حیثیت سے۔مجھے ابا میں غور کر کے بھی کوئی کسی قسم کی برائی نظر نہیں آتی صرف جو بیماری کی وجہ سے ذرا جلدی غصہ آ جاتا ہے۔مگر وہ بھی پانی کے بلبلہ کی طرح فورا ختم ہو جاتا تھا۔ایک انسان کی حیثیت سے جب میں اپنے ابا جان کو دیکھتی ہوں تو سب سے پہلے اللہ تعالی سے بے حد محبت کرنے والا ، اس کی بے حد عبادت کرنے والا ، اس کی اطاعت کرنے والا ، شکر گزار بندہ، بہترین بیٹا ، بہترین ،باپ، بہترین خاوند، بهترین آقا، عزیز و اقارب کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ، بنی نوع انسان کے ساتھ بے حد محبت و رحم اور مساوات کا سلوک کرنے والا حتی کہ جانوروں تک کا بہت خیال رکھنے والا پاتی ہوں۔اور آپ کے کردار میں وہ مہمان نوازی اور انکساری، غریبوں سے بے حد حسن سلوک، اور جذ بہ صدقہ و خیرات کو سب سے ممتاز پاتی ہوں۔اگر معلوم ہو جاتا کہ کوئی تکلیف میں مبتلا ہے تو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔جب تک کہ اس کی مدد نہ کرتے۔رشتہ داروں کو اگر ضرورت مند دیکھتے تو ان کی ہر طرح امداد کرتے۔ناممکن تھا کہ کوئی گھر آتا اور خالی ہاتھ جاتا۔بعض وقت اگر کوئی رقم قرض کے طور پر بھی لینے آتا تو باوجود ہجرت کے نتیجہ میں خود مقروض ہونے کے کہیں سے قرضہ لے کر دے دیتے۔گھر میں اراضی کی آمد آتے ہی ہمیں یوں محسوس ہوتا کہ ابا جان کو گھبراہٹ شروع ہو جاتی کہ کب یہ جلدی ختم ہو۔میں نے اپنے ابا جان کو ایک بندہ کی حیثیت میں دیکھا۔تو ساری عمر خدا تعالیٰ کا بے حد شکر گزار پایا ہر وقت باری تعالیٰ کے احسانوں کے گنتے تھے اور شکر کرتے تھے۔آپ کو دعا پر بے حد یقین اور دعا کی بہت عادت تھی۔پانچوں نمازیں باقاعدگی کے ساتھ اور بڑے اہتمام سے ادا کرتے تھے اور نماز باجماعت کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔مگر دل کی بیماری کے بعد جب تھوڑا تھوڑا کرسی