اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 156 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 156

156 تنخواہیں اسی وجہ سے ادا نہ ہو سکی تھیں )۔آپ کو ہمارا اس قدر خیال تھا۔میں نے عرض کیا کہ آپ کے بہت احسانات ہیں۔میں صرف عیادت کیلئے حاضر ہوا ہوں۔آپ کے قیام سندھ کے دوران ہی میرے والد محترم کی وفات کا تار بوجہ سیلاب دو دن تاخیر سے آیا۔مجھے شدید صدمہ پہنچا۔راستے مسدود تھے آپ نے نہایت دلداری فرمائی۔بہت دیر تک اپنے پاس بٹھا کر والد صاحب مرحوم کے اخلاص، قربانیوں ، مرکز سے وابستگی احمدیت سے عشق اور خلافت سے وابستگی کا ذکر کرنے کے ساتھ مجھے صبر کی تلقین فرماتے رہے اور اپنے پاس سے کچھ رقم والدہ صاحبہ کو بھجوادی اور فرمایا کہ ایسے موقع پر اخراجات درکار ہوتے ہیں۔ادھر حضرت بیگم صاحبہ نے کئی روز تک ہمارے لئے ناشتہ اور کھانا بھجوایا۔اور اسٹیٹ کے ملازمین کے اہل خانہ کو میری اہلیہ سے تعزیت کیلئے بھجوایا اس طرح ہر دو بزرگوں نے ہمارے غم کو غلط کرنے کی سعی بلیغ فرمائی۔اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کی اولاد پر ہزاروں ہزا ر رحمتیں نازل فرمائے۔آمین 29۔تاثرات اسلم صاحب ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم بسلسلہ ملازمت 1919ء میں قادیان آئے تھے اور ترنم سے نظمیں پڑھنے کی وجہ سے عوام میں معروف تھے۔بعد ازاں فتنہ ارتداد ملکانہ (یوپی) شروع ہونے پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منظم مقابلہ ہوا اور ماسٹر صاحب کو چار سال تک وہاں سا دھوا نہ لباس میں مصروف جہادر ہنے کی سعادت حاصل ہوئی۔آپ بیان کرتے ہیں :۔وو میدان ارتداد سے واپسی پر آپ نے از راہ شفقت اپنے ہاں میری دعوت کی۔مجھے اپنے ساتھ کھانا کھلانے کا شرف بخشا۔میرے لئے ایسا پہلا موقعہ تھا۔ابھی ہمارے ملک میں یہ طریق عام نہ تھا۔مجھے معلوم نہ تھا کہ کھانا ڈشوں میں ہے۔آپ نے کھانا شروع کرنے کو فرمایا میں حیران تھا کہ پلیٹیں خالی ہیں۔کھاؤں کیا۔آپ کی فراست آڑے آئی اور آپ نے خود ایک ڈش سے میری پلیٹ میں سالن ڈال دیا۔بعد میں پردہ میں خواتین کو مجھ سے علاقہ ملکا نہ کے تبلیغی حالات اور ترنم کے ساتھ بھیجن سنوائے اور بہت محظوظ ہوئے۔محض اس لئے کہ میں نے خدمت دین کی تھی۔آپ نے میری حوصلہ افزائی فرمائی۔1942ء میں حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نے مجھے حیدر آباد دکن میں لینسٹرن سلائیڈز لیکچروں کیلئے بلایا۔آپ نے مجھے بہت سے مفید مشورے دیئے اور فرمایا۔میرے