اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 141 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 141

141 سال بعد اس سے ملاقات ہوئی۔تو نہایت شفقت سے اس سے پیش آئے جس سے اس کا خوف جاتا رہا۔“ 22۔ماموں زاد بھائی کی نظر میں آپ کے یک جدی نیز ماموں زاد بھائی جناب خان رشید علی خاں صاحب مقیم 137 ڈی ماڈل ٹاؤن لا ہور خلف کرنل اوصاف علی خان صاحب مرحوم آپ کے اخلاق عالیہ کے متعلق رطب اللسان ہیں۔وہ رقم فرماتے ہیں۔غالباً 1942ء یعنی دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا۔بھائی جان دہلی میں اپنے ماموں کرنل اوصاف علی خان صاحب سی آئی ای (والد صاحب مرحوم) کے مکان واقعہ نمبر 17 دریا گنج میں مقیم تھے۔سیٹھ مالک رام بہت بڑے دولتمند ٹھیکہ دار تھے۔کسی دوست کے ذریعہ سے بھائی جان سے ان کی ملاقات ہوئی۔سیٹھ مالک رام ان کے اخلاق فاضلہ اور اوصاف حمیدہ سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ خواہش ظاہر کی کہ ان کے ساتھ کاروبار میں شریک ہو جائیں۔مگر بھائی جان نے سیٹھ صاحب کو کہا کہ وہ اس قسم کے کاروبار کا رجحان ہی نہیں رکھتے مگر سیٹھ صاحب ان کے اخلاقی کردار کی وجہ سے اتنے متاثر ہوئے تھے کہ ان کی تمام شرائط کو تسلیم کر کے ان کو اپنے ساتھ کاروبار میں شریک کرلیا۔چنانچہ بھائی مرحوم نے مجھے دہلی بلایا اور آپ کی خواہش کے مطابق اس کاروباری شرکت میں ان کے بعض فرائض کی ذمہ داری میں نے قبول کر لی۔گورنمنٹ کو فوجی ضروریات کا سامان مہیا کرنے کا کام تھا۔اور یہ بڑے پیمانہ پر ہو رہا تھا۔محکمہ انکم ٹیکس کو پیش کرنے کیلئے کاروباری آمد وخرچ کے گوشوارے سیٹھ صاحب نے تیار کرنے تھے۔چنانچہ انکم ٹیکس میں کچھ فائدہ حاصل کرنے کے واسطے سیٹھ صاحب نے عام کاروباری فرموں کی طرح کچھ اس قسم کا حساب تیار کر وایا جو حقیقت سے مختلف تھا اور انہوں نے انتہائی کوشش کی کہ بطور حصہ دار بھائی جان بھی اس سٹیٹمنٹ پر دستخط کر دیں۔مگر انہوں نے اس سے قطعی انکار کر دیا اور فرمایا کہ انہوں نے اپنی تمام عمر ایک پیسہ بھی اپنے حق کے علاوہ اور ناجائز حاصل نہیں کیا اور وہ اپنے آپ کو اس قسم کے ناجائز کاموں کے اہل نہیں پاتے۔باوجود اس حقیقت کے کہ بھائی جان مرحوم نے اس کا روبار میں کافی منافع حاصل کیا تھا اور آئندہ بھی بہت بڑے منافع کی توقعات تھیں مگر اس واقعہ کے بعد بھائی جان کی جو بہت پاک باطن بزرگ تھے طبیعت اس کا روبار سے نفرت محسوس کرنے لگی اور چند ہی ایام کے بعد آپ نے اس شراکت اور کاروبار سے