اصحاب احمد (جلد 12) — Page 140
140 میں نہ مل سکتا۔تو اپنی شخصی ضمانت پر روپیہ دلوادیتے تا تکلیف نہ ہو۔ربوہ کی اراضی خریدی جارہی تھی۔آپ منع محترمہ بیگم صاحبہ جارہے تھے۔مجھے بھی چلنے کو فرمایا۔شیخ مسعود رشید صاحب انجینئر مرحوم اپنی موٹر پر خود ڈرائیو کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔اگلے روز لائل پور میں اپنے بھائی خان مسعود احمد خان صاحب کے ہاں قیام ہوا۔بوقت تہجد میں بیدار ہوا۔تو حضرت ممدوح کو لوٹا لئے پندرہ منٹ سے منتظر کھڑا پایا۔فرمایا میں نے یہ خیال کر کے کہ آپ تہجد کے عادی ہیں۔پانی نہ پا کر پریشان ہوں گے۔اٹھتے ہی پانی لایا۔لیکن جگایا نہیں کہ تکلیف نہ ہو اور انتظار کرنے لگا۔حقیقت ہے کہ ثمر دار شاخ کی طرح جھکنا آپ نے شیوہ بنا رکھا تھا۔اسی لئے لوگ آپ کے گرویدہ تھے۔آپ تحائف بھجواتے تھے۔جو دھامل بلڈنگ میں آپ نظارت علیا کے دفتر میں تشریف فرما تھے اور خاکسار بھی آپ کے پاس ہی بیٹھا تھا کہ فرمانے لگے آج میرے معدہ میں کچھ تکلیف ہے جس کی وجہ سے دل کو بھی تکلیف ہورہی ہے۔پھر نظارت علیا کے کارکن سعید اللہ صاحب کو ارشا د فرمایا کہ فوراً گھر سے دوائی لائیں۔لیکن دوائی لانے میں کچھ دیر ہوگئی تو آپ خود دفتر سے گھر کیلئے نکل پڑے اور جو نہی رتن باغ پہنچے بیہوش ہو کر گر پڑے۔ڈاکٹروں کے آنے پر معلوم ہوا کہ آپ کو دل کا دورہ ہوا ہے۔ڈاکٹری ہدایت کے مطابق آپ کو کافی عرصہ تک بستر پر آرام کرنا پڑا۔لیکن چونکہ دین کی خدمت کرتے ہوئے آپ بیمار ہوئے تھے۔اس لئے بیماری کا سارا عرصہ دینی خدمت شمار ہوتا ہے۔آپ اپنے اہل بیت کی دن رات کی خدمت کا ذکر کر کے شکر گزار ہوتے۔فرماتے تھے کہ قرآن مجید میں جنتی بیویوں کے جس قدر اوصاف بیان ہوئے ہیں۔وہ سب آپ میں موجود ہیں۔مجھے آپ کی شفایابی کے متعلق خواب آیا۔ایک بار آپ نے مجھے فرمایا کہ آپ کی خواب میری صحت یابی سے پوری ہو گئی۔21۔بیان مولانا محمد جی صاحب محترم مولانا محمد جی صاحب ہزاروی فاضل ( سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ ) بیان فرماتے ہیں۔کہ ” آپ تہجد گزار ، مستجاب الدعوات، صحابہ کرام سے تعلقات رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی کے پاس گھنٹوں آ کر آپ بیٹھتے ، دعا کراتے ،مشورے کرتے ، آپ مخیر طبع تھے۔ایک شخص کو اس کی مالی حالت سنوارنے کیلئے دکانداری کیلئے بہت سا روپیہ دیا۔اس سے وہ خرچ ہو گیا اور شرمندگی کے باعث بھاگ گیا۔آپ کو افسوس ہوا کہ بھاگنے کی اس کو ضرورت نہ تھی۔چند