اصحاب احمد (جلد 12) — Page 139
139 گئے ہیں۔مگر تیسرا کو نہ نہایت سرسبز و شاداب اور پھلوں پھولوں والا ہے۔اس کی تعبیر بعد میں سمجھ آئی کہ میرے دونوں سگے بھائیوں کی شادیاں غیر احمدی خاندانوں میں ہوئیں اور وہ اولاد سے محروم رہے۔اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد در اولا د عطا کی۔20 بیان مولوی نور الحق صاحب اخویم ابوالمنیر مولوی نور الحق صاحب پروفیسر جامعہ احمد یہ بیان کرتے ہیں۔اگست 1947ء میں جب قادیان کے ماحول میں سکھ مسلم فسادات شروع ہوئے تو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خواتین خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جن میں حضرت ام المومنین بھی شامل تھیں۔لاہور بھجوا دیا۔اس قافلہ کے ساتھ حضرت میاں عبداللہ خان صاحب، ملک سیف الرحمن صاحب ( مفتی سلسله)، مولوی محمد احمد صاحب جلیل (پروفیسر جامعہ احمدیہ )، چوہدری محمد صدیق صاحب (لائبریرین خلافت لائبریری) کو بھی حضور نے لاہور بھجوایا۔کچھ دن بعد حضور بھی لاہور تشریف لے آئے اور آپ نے جو دھامل بلڈنگ میں اجلاس کر کے صدرا انجمن احمد یہ پاکستان کی بنیا د رکھی اور ناظر اعلیٰ حضرت مرحوم کو مقرر فرمایا۔خاکسار ناظر آبادی اور رکن انجمن مقرر ہوا۔اس وقت سے آپ کو قریب سے دیکھنے کا مجھے موقعہ ملا اور آپ کی بعض منفردانہ خصوصیات نظر آئیں۔آپ بلا ناغہ دفتر تشریف لاتے۔اور ایک ڈیڑھ گھنٹہ کے اندر روز کا جمع شدہ کام ختم کر دیتے۔ہجرت کے بعد کا قریبی عرصہ جماعت کیلئے بہت ہی نازک تھا۔قادیان میں تو سب دفاتر پوری طرح قائم ہو چکے تھے۔لیکن ہجرت کے بعد از سر نو اُن کی بحالی کی مثال ایسی ہی تھی۔جیسے کسی بڑے درخت کو جو آندھی سے گر جائے۔کھڑا کر کے اسے پھر تر و تازہ بنانے کی کوشش کی جائے گویا صدر انجمن کے کام کو قادیان والے کام کے معیار پر پہنچانے اور اس بارہ میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی فکر مندی کو دور کرنے کیلئے محنت شاقہ درکار تھی۔آپ نے اس بارہ میں حضور کی امیدوں کو پورا کیا۔حضور نے دور اندیشی سے 1947 ء کے فسادات کے آغاز میں ہی صدر انجمن میں موجود احباب کی امانتیں اور ان کے حساب کے رجسٹرات لاہور بھجوا دیئے تھے اور محاسب وافسر خزانہ مرزا عبد الغنی صاحب کو بھی۔مصیبت زدہ مہاجر امانتیں حاصل کر نے کو بے تاب ہوتے لیکن عملہ نا کافی تھا۔دقت ہوتی جو نبی کوئی آپ کے پاس آتا۔آپ فورا ساتھ ہو لیتے۔اور بعض دفعہ حساب جلدی