اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 138 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 138

138 ہے۔میں نے حضرت مرحوم کا ذکر کر کے کہا کہ وہاں سے مل سکتا ہے۔باوجود میرے کہنے کے کہ وہ بیمار ہیں وہاں دس بجے شب ہم پہنچ سکیں گے۔لیکن انہوں نے کہا کہ معاملہ اہم ہے۔چنانچہ ہم چلے گئے خادم نے بتایا کہ بیمار ہیں اور شب خوابی کے کمرہ میں جاچکے ہیں۔میں اطلاع نہیں دے سکتا۔لیکن ہماری گھنٹی کی آواز پر آپ نے خادم کو بلا کر دریافت کیا اور ہمیں بٹھلا نے کو کہا اور کمبل اوڑھے لباس شب میں تشریف لے آئے اور فوراً نقشہ آبادی لا دیا۔اور اصرار کیا کہ ہم وہیں قیام کریں اور صبح ناشتہ کے بعد جائیں۔لیکن ہم کام کی وجہ سے معذرت کر کے واپس آگئے۔“ 18۔بیان مولانا ابوالعطاء صاحب محترم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری بیان فرماتے ہیں۔کہ حضرت مرحوم حاجتمندوں اور غرباء سے بے تکلفی اور جذبہ اخوت سے پیش آتے تھے۔خدام سلسلہ سے خاص محبت سے ملتے۔بعد درس بھی دینی مسائل پر گفتگو کرتے اور افاضہ علم سے خوشی محسوس کرتے۔دینی کتب کا مطالعہ کرتے۔لباس صاف لیکن نہایت سادہ ہوتا حضرت حافظ روشن علی صاحب کی بہت تکریم کرتے اور حافظ صاحب بھی بہت محبت کرتے تھے۔جب ناظر اعلیٰ تھے تو آپ کی بشاشت سے زخمی دل مہاجروں کو بہت آرام پہنچا۔آپ کی گفتگو سے خدا تعالیٰ یاد آتا تھا۔سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ کے مطابق ان کے چہرہ سے انوار نمایاں تھے۔“ 19۔تاثرات مولوی ظہور حسین صاحب مکرم مولوی ظہور حسین صاحب سابق مجاہد بخارا بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے مجھے بچوں کی دینی تعلیم کیلئے لاہور بلوایا۔پھر ساتھ ہی سندھ لے گئے۔موسمی تعطیلات کے اختتام کے قریب فرمایا کہ حضرت بیگم صاحبہ متاسف ہیں کہ اب آپ کے جانے سے درس کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔نہایت توجہ سے اعلیٰ کھانا بھجواتے اور خیال رکھتے دینی مسائل دریافت کرتے رہتے اس امر کا جوش رکھتے تھے کہ جس قدر جلد ممکن ہو قرضہ جات سے سبکدوش ہوں۔فرماتے تھے کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی نصیحت کے مطابق احمدی رشتہ کے حصول کیلئے دعائیں کیں۔ایک پٹھان بزرگ نے جن سے میں دعا کرواتا تھا۔خواب دیکھا کہ ایک تین کونوں والا باغ ہے جس کے دو کو نے تو سوکھ