اصحاب احمد (جلد 12) — Page 137
137 ڈاکٹروں کی مایوسی کے نہیں کی۔بارہ تیرہ سال متواتر چوکسی کے ساتھ خدمت کرنا معمولی امر نہیں۔میں نے اس پاک جوڑے میں ایک دوسرے سے تعاون ، محبت، ہمدردی ، احترام و تکریم اور ایثار دیکھا اور باوجود اتنے قرب کے اور اس بارہ میں غور کرنے کے میں فیصلہ نہیں کرسکا کہ دونوں میں سے کس کا پلڑا بھاری تھا۔“ 17۔بیان ملک محمد عبداللہ صاحب اخویم ملک محمدعبداللہ صاحب سمبڑ یا لوی فاضل لیکچرار تعلیم الاسلام کا لج ربوہ بیان کرتے ہیں کہ :۔" آپ متمول ہونے کے باوجود بہت متواضع، خلیق ، مہمان نواز اور ملنسار تھے۔ایک دفعہ آپ نے مجھے بڑی معذرت کے ساتھ کہا کہ فلاں آپ کے واقف دوست کے پاس ضروری کام کیلئے آپ کو سیالکوٹ بھجوانا ہے۔میں نے عرض کیا کہ وہ کاروبار کیلئے کہیں باہر ہوں گے۔فرمایا آپ ان کا ایڈریس لے آئیں۔چنانچہ میں لے آیا۔آپ نے تکلیف دہی پر معذرت فرمائی اور مشروب سے تواضع کی۔اور چند دن بعد خوشی کا اظہار کر کے فرمایا۔کہ ایڈریس کی وجہ سے ان صاحب کا حسب منشاء جواب آگیا ہے۔ایک دفعہ ماڈل ٹاؤن میں مجھے کلیمز کے تعلق میں آپ نے بلایا ہوا تھا۔بعد عشاء ایک ہم جماعت کے آنے کی اطلاع ملی۔ہماری مصروفیت کے باعث فرمایا۔صبح ناشتہ پر ملاقات ہوگی اور قیام و طعام کا انتظام کروا دیا۔ناشتہ پر مہمان کے متعلق دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ کسی کام سے شہر چلے گئے ہیں۔آپ نے فرمایا مجھے اطلاع دی ہوتی۔یہ تو اچھی بات نہیں اسے جانے کیوں دیا۔جلدی جاؤ وہ بس سٹاپ پر ہوں گے۔چنانچہ خادم سائیکل پر جا کر انہیں لے آیا۔آپ بہت تپاک سے ملے۔ساتھ ناشتہ کرایا اور بار بار پوچھا کہ آپ ناشتہ کے بغیر کیوں چلے گئے اور پھر گیٹ تک الوداع کہنے گئے۔وہ صاحب بہت سادہ اور دیہاتی وضع کے تھے۔ان کے جانے کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ اپنے ہم مکتب کی ملاقات سے بہت خوش ہوئے ہیں۔کافی سال اکٹھے پڑھے ہیں۔فرمایا میری یادداشت میں اب تک نہیں آئے۔انہوں نے ہم مکتب ہونے کا جو کہا ٹھیک ہوگا۔اسی لحاظ سے میں نے خاطر مدارات کی ہے۔ٹھیکہ دار علی احمد صاحب ساکن ربوہ کے تعلق میں وکیل نے کہا کہ قادیان کا نقشہ آبادی مطلوب