اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 99 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 99

99 نہیں ہوتا کہ اس کو کس وقت اللہ تعالیٰ کا بلاوا آ جائے۔لیکن میرے جیسی صحت والے آدمی کیلئے تو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا۔کہ بقائمی ہوش و حواس اس وقت ایک وصیت لکھ جاؤں۔فهو هذا۔(1) میں ایمان رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات کے ساتھ وحدہ لا شریک ہے۔حضور سرور کائنات نبی کریم ﷺ خاتم النبین ہیں۔اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور مہدی آخر الزمان متصور کرتا ہوں۔آپ نے عشق نبی کریم ﷺ میں اس قدر کمال حاصل کیا۔کہ آپ مَنْ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُصْطَفَى فَمَا عَرَفَنِي وَمَارَأَى کے مصداق ٹھہرے۔اور کلی طور پر فنافی الرسول کا مقام حاصل کیا۔اور پھر حضور کی غلامی میں نبوت کا درجہ حاصل کیا۔میرے ایمان کا یہ بھی جزو ہے۔کہ خلافت کا قیام الہی سلسلوں کے قیام اور بقا کیلئے لازمی اور ضروری ہے۔جو سلسلہ اس نظام سے بدقسمتی سے محروم ہو گیا ہے اس کو کبھی استحکام حاصل نہیں ہوسکا۔ایک منتشر پراگندہ گروہ ہو کر رہ گیا۔عام مسلمانوں کی موجودہ حالت ہمارے لئے عبرت کا مقام ہے۔(2) میری دعا اور آرزو ہے کہ میری اولا د خلافت سے منسلک رہے۔اور ہمیشہ اس گروہ کا ساتھ دیں۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کے افراد زیادہ سے زیادہ ہوں۔کیونکہ حضور علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔اِنِّی مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِكَ - نماز با جماعت ادا کرنے کی کوشش کریں۔اور ہر مصیبت کے وقت مولا کریم کو قادر مطلق خدا تصور کرتے ہوئے اس کے حضور جھک کر عجز و انکسار سے استقامت طلب کریں۔میں نے اسی طریق سے زندہ خدا کو پایا۔اور اپنی مشکلات کو کافور ہوتا دیکھا۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خاص خیال رکھیں۔ہمیشہ ان کے سامنے یہ بات ہونی چاہئے کہ وہ کس ماں کی اولاد ہیں۔اور کس نانا کے وہ نواسے اور نواسیاں ہیں۔کس مقام کا ان کا ماموں ہے۔اور وہ اس دادا کی اولاد ہیں جس نے اپنی اور اپنی اولا دسنوار نے کیلئے اپنے وطن کو چھوڑا۔اور محلات کو چھوڑ کر ایک کو بستی میں ایک تنگ مکان میں بسیرا کیا اور صرف اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں آن بیٹھا تا اس کو اور اس کی اولا د کو از لی زندگی حاصل ہو اور دین کو مقدم کرنے کا موقع ملے۔ہم نے کچھ کچھ اس قربانی کی برکات کا مزا چکھا ہے اور اگر میری اولاد نے صبر وشکر کے ساتھ استقامت دکھائی اور اپنے نانا علیہ الصلوۃ والسلام کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھا۔تو بے شمار دینی و دنیوی فیوض و برکات کے وارث ہوں گے جو