اصحاب احمد (جلد 12) — Page 69
69 اس جلسہ کا اجلاس اس لئے کیا جارہا ہے۔کہ چونکہ نصرت آباد اسٹیٹ میں فصل نہایت شاندار ہوا ہے۔اس لئے پہلے رب العزت والعرش کا شکر یہ ادا کیا جائے پھر ان کارکنوں کی خدمات کا اعتراف کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے میری امداد کیلئے مجھے دیا ہے جب میں اپنی اسٹیٹ کے رقبہ کو دیکھتا ہوں تو ایک رشک کی نظر دوسری اسٹیوں کی طرف اٹھ جاتی ہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کے فضل کو دیکھتا ہوں جو۔۔۔پیداوار کی شکل میں ہم کو مل رہا ہے تو میرا دل اطمینان اور شکریہ سے لبریز ہو جاتا ہے۔یہ حض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں تو فیق دی کہ اس رقبہ میں محنت اور کوشش سے کام کرسکیں۔اور بہترین ثمرات حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی دیئے۔جو کہ اس فارم میں اس جذبہ اور محبت کے ساتھ کام کرتے ہیں گویا کہ ان کا اپنا ذاتی رقبہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں کو محبت اور خلوص سے بھر دیا ہے۔میری موجودگی اور عدم موجودگی ان کیلئے برابر ہے یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اس کیلئے جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں کم ہے۔رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَأَصْلِحُ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّى مِنَ الْمُسْلِمِينَ - جب میں نے 1933ء کے شروع میں بقیہ حاشیہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتا ہے۔تحریک جدید کے چندوں میں وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔خدام الاحمدیہ کی عمارت کے فنڈ میں معقول رقم دی۔ماہواری چندوں میں پوری با قاعدگی سلسلہ کی تمام تحریکوں میں شوق سے حصہ لینا ان کا معمول ہے۔انہوں نے اپنے دونوں لخت جگر دین کیلئے وقف کر رکھے ہیں اور یہ واقعہ ہے کہ وہ بچے بھی اپنے دل میں خدمت دین کا بے پناہ جذبہ محسوس کرتے ہیں۔چنانچہ گزشتہ سال کے موسم گرما ( میں صاحبزادہ عباس احمد خاں علاقہ سری گوبند پور میں یہ امیر ابن امیر نونہال جو ناز و نعمت کے گہوارے میں پرورش پائے ہوئے تھا۔دھوپ کی بھی پرواہ نہ کرتا ہوا گاؤں گاؤں شوق تبلیغ میں پھرتا رہتا تھا اور کبھی اگر کھانا نہ ملا تو صرف چنے چبا کر گزارہ کرلیا کرتا تھا۔یہ بات ایک ایسے گھرانے کے نو نہال میں جو ہمیشہ متنعما نہ زندگی بسر کرنے کا عادی ہو نہیں پیدا ہو سکتی جب تک وہ خاندان اور خصوصاً والدین ایک پاکیزہ زندگی گزارنے کے عادی نہ ہوں۔۔۔یہ جذبہ اور یہ شوق (والدین) کی اپنی ذاتی پاکیزگی اور دینداری کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔۔۔تقریر کے متعلق ایڈیٹر صاحب لکھتے ہیں کہ اس قابل ہے کہ ہر ایک مخلص احمدی اسے پڑھے تو وہ جان سکے کہ وہ کونسا جذ بہ اور کونسی روح ہے جو ایک احمدی رئیس کے دل میں کام کر رہی ہے۔اور اس سے اس انقلاب کا بآسانی پتہ لگ سکے گا۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے بعد روحوں میں ہوا ہے۔