اصحاب احمد (جلد 12) — Page 62
62 مومنوں کی جان اور مال کو بہشت کے بدلے میں خرید لیا۔اب سمجھ لو کہ غلام کی جان و مال جب بک گئی۔تو اس کا کیا رہ گیا اور پھر اسی لئے حکم بھی دیا کہ اگر تم کو اللہ اور اس کے رسول سے تمہارے ماں باپ بیٹے بیٹی رشتہ دار ) مال و دولت، باغات جو تم نے بڑے چاؤ سے لگائے اور مکانات جو بڑے اہتمام سے بنائے اور تجارتیں جن کے گھاٹے کا تم کو خوف ہے زیادہ پیارے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کے مقابلہ کیلئے تیار ہو جاؤ۔یعنی اللہ تعالیٰ پھر سزا دے گا۔ان وجوہ سے صاف ظاہر ہے کہ محض اللہ تعالیٰ سے ہی محبت ہو اور اس بڑھتی ہوئی محبت سے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری انسان کرے۔ہاں دوسری چیزوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت محبت سلوک نیکی کرے اور یہ سمجھ کر کہ محبوب کی چیزیں ہیں۔لوگ غلطی سے شادی بیاہ کے تعلقات کو محبت کی بناء پر کرتے ہیں۔حالانکہ اسلام میں محبت محض اللہ تعالیٰ کیلئے وقف ہے۔کیونکہ انسان دل کے ہاتھوں مجبور ہے جب کسی سے محبت بڑھ جاتی ہے۔تو پھر دین و ایمان جان و مال سب اس پر قربان کر دیتا ہے۔اور بتوں کو سجدہ کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے دل کو اپنا مہبط بنایا اور غیر اللہ سے لگانے سے ہٹایا۔تا ہم اسی محبوب حقیقی پر دین و ایمان جان و مال فدا کریں۔بیوی بچوں سے حسن سلوک کریں مگر اسی قدر جس قدر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اجازت دے دی۔پس محبت کی بناء پر شادی نہ ہونی چاہئے۔دل کے ہاتھوں غیر اللہ کو کعبہ نہ بنا ئیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بعض قوانین باندھ دیئے۔تا ہم اللہ تعالیٰ کو جب جان اور مال بیچ چکے ہیں اور اس میں سے اس نے اپنے فضل سے ) با وجود خرید کے خرچ کی اجازت دی ہے۔کچھ جان و مال خرچ کریں پس شادی کے متعلق فرماتا ہے۔اور پہلا اصول بھی قائم کرتا ہے کہ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِینَ۔پاکباز ہو کر خواہشات کو مد نظر رکھ کر۔۔۔حصن کہتے ہیں قلعہ کو۔یعنی قلعہ بند ہوکر۔قلعہ کیوں ہوتا ہے۔اپنے بچاؤ کیلئے پس اپنے قومی اور طاقتوں کو قائم رکھ کر صحت و عافیت کا لحاظ رکھ کر تمام تعلقات کو قائم کرنا چاہئے۔پھر شیطان کے پنجے سے بھی بچانا چاہئے اور نہ صرف اپنے کو بچانا بلکہ بیوی کو بھی ، اس کی صحت و عافیت کا خیال بھی رکھنا اس کو بھی شیطان سے بچانا۔پس پہلا اصول یہی ہے کہ حیوانات کی طرح ہر وقت خواہشات کا گرویدہ نہ رہنا چاہئے اور پھر حضرت انسان تو حیوانات سے بھی بڑھ گئے ہیں۔قوانین قدرت کو تو ڑ دیا ہے پس قوانین قدرت کا لحاظ رکھنا چاہئے۔لطیف طرز سے اللہ تعالیٰ نے غرض شادی کو ظاہر فرمایا ہے اور اسی تعلقات زن وشوی کے کل شعبوں پر روشنی ڈال دی۔اور جو ایک کتاب میں بھی بیان نہیں ہو سکتے۔ایک آیت میں بیان