اصحاب احمد (جلد 12) — Page 55
55 ہے۔یہ تقویٰ کے فوائد ہیں۔ان آیتوں میں ان ہی فوائد کو کھول کر پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ۔اے لوگو! تم اپنے اس رب کے لئے تقویٰ اختیار کرو۔جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کے زوج کو پیدا کیا۔آگے فرمایا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً۔تمہاے نکاح کی یہ غرض بھی ہو کہ تم تقوی اختیار کرو لیکن یہ بھی ہو کہ تم سے رجال اور نساء بھی ہوں اور تم سے یہ سلسلہ چلے لیکن یہ سلسلہ بھی تقوی کے نیچے ہو۔ورنہ کیا کفار کی اولاد نہیں ہوتی۔یا حیوانوں کے اولاد نہیں ہوتی اور ان سے سلسلہ نہیں چلتا۔پھر مسلمانوں اور دوسرے لوگوں اور حیوانوں میں فرق ہی کیا ہوا ؟۔مسلمانوں کا تو یہ کام ہے کہ نکاح تقویٰ کے ماتحت کریں تا کہ نیک اولاد پیدا ہو۔اسی بناء پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ نکاح کرو اور ضرور کرو۔چنانچہ فرمایا۔اَلنِكَاحُ مِنْ سُنَّتِي فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنی۔یعنی نکاح کرنا میری سنت ہے اور جو اس میری سنت سے اعراض کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں ہے۔پس اگر کوئی تقوی اور آنحضرت ﷺ کی سنت کو ملحوظ خاطر رکھ کر نکاح کرے تو بڑے فائدہ اور بڑے ثواب کا مستحق ہوگا۔پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔تَنَاكَحُوا وَتَوَالَدُوُا - کہ نکاح کرو اور اولاد بڑھاؤ۔میں قیامت کے دن اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔اب ان اغراض اور نیز آنحضرت ﷺ کے مقاصد کو مد نظر رکھ کر جو نکاح ہو۔وہ بہت ہی بابرکت ہوگا اور بہت اچھی اولا د ہوگی۔خدا تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے نِسَاءَ كُمُ حَرْثٌ لَّكُمُ عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔یعنی جیسے کاشتکار اپنی کھیتیوں میں پاکیزہ اور اعلیٰ درجہ کی پیداوار کاشت کرتا ہے۔تمہیں بھی اپنی ان کھیتیوں میں پاکیزہ پیداوار کیلئے کاشت کرنا چاہئے۔یعنی یہ کاشت تقویٰ کے طرز پر ہونی چاہئے۔اگر کوئی تقوی سے یہ کاشت کرے گا تو اس کی اولا د ضرور اعلیٰ درجہ کی ہوگی۔پھر خدا تعالیٰ نے عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کے اور بھی کئی اغراض بیان فرمائے ہیں۔چنانچہ فرمایا۔هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ - کہ وہ تمہارے لئے لباس کا فائدہ دیتی ہیں اور تم ان کیلئے لباس کا فائدہ دیتے ہو۔لباس کا فائدہ بھی خدا تعالیٰ نے خود ہی بتا دیا۔یبنِی آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِى سَوَاتِكُمْ وَرِيشاً۔کہ لباس سے انسان کی شرم گاہیں ڈھکی جاتی ہیں۔اسی طرح زن و مرد کے تعلقات کی وجہ سے بہت سی مرد اور عورت کی برائیاں ڈھانپی جاتی ہیں۔اگر یہ مرد وعورت کا تعلق نہ ہو تو ممکن ہے کہ وہ جذبات اور طبعی تقاضے جو مرد و عورت کو لگے ہوئے ہیں۔غلط طور پر استعمال کئے