اصحاب احمد (جلد 12) — Page 44
44 مرحوم و مغفور بذریعہ مرزا خدا بخش صاحب کر چکا ہوں جس کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا تھا کہ والدہ محمود نے تو خواب میں دوسرے بچے یعنی عبداللہ خاں کو دیکھا ہے اور آپ عبدالرحیم کی بابت کہتے ہیں اور فرمایا کہ سر دست جب تک مبارکہ کی رخصتی نہ ہوئے۔اس بارہ میں سر دست گفتگو نہیں ہو سکتی۔جب مبارکہ رخصت ہو جائیں گی۔اس وقت اس کی بابت گفتگو کی جائے گی۔اس وقت مجھ کو معلوم ہوا تھا کہ حضرت ام المومنین علیہا السلام کو رؤیا ہوئی ہے کہ عبداللہ کا رشتہ حفیظ سے ہو جائے۔ورنہ مجھ کو اس کا کوئی علم نہیں تھا۔معلوم نہیں کہ اس کا تذکرہ حضرت اقدس ( نے ) حضرت ام المومنین سے فرما یا یا نہیں۔0 دوم :۔ایک دنیاوی اور کچھ مصلحت کا خیال مجھ کو اس رشتہ کا محرک ہوا تھا۔وہ یہ کہ حضرت اقدس نے میرے رشتہ کے وقت لکھا تھا کہ تمہاری جانب سے تو ہم کو اطمینان ہے۔مگر ورثاء کا خیال کر کے ہم مناسب تصور کرتے ہیں کہ مہر دو سال کی آمدنی چھپن ہزار روپیہ ہو۔میں نے عرض کیا کہ میری یہ آمدنی اس وقت نہیں تو فرمایا مضائقہ نہیں۔خدا وند تعالیٰ نے پھر آمدنی بھی بڑھا دی اور بجائے اکیس کے اٹھائیس ہزار سالانہ ہوگئی۔پس اسی مصلحت سے مجھے خیال آرہا ہے کہ موت و حیات کا پتہ نہیں عام قاعدہ کے مطابق بعد میں وراثت کے جھگڑے پڑتے ہیں اور اس وقت جو بظاہر پہلے مطیع یا متفق نظر آتے ہیں وہ بیگانے بن جاتے ہیں۔موجودہ میری اولا د نہایت خورد سال اور مبارکہ بیگم صاحبہ بھی ناتجربہ کار، دوسری اولاد بڑی۔اس لئے اگر ان میں بھی کچھ ایسی بات پیدا ہو جائے کہ ان کو بھی حضرت اقدس کی اولاد اور میری اولاد سے بے تعلقی نہ ہو جائے۔یا کم از کم ایک کو جس کا رشتہ ہو جائے گا اس کو تو نہیں ہوگی اور وہ تو کسی قدرمد و معاون ہوسکتا ہے۔اس خفیف سی مصلحت سے بھی میں اس رشتہ کو مناسب سمجھتا تھا۔دوسرے میں اپنی پہلی اولاد کو حضرت اقدس کی دعاؤں میں شامل کرنا چاہتا تھا۔کیونکہ اس طرح میری پہلی نصف اولا د حضرت اقدس سے متعلق ہوسکتی تھی۔کیونکہ چار بچوں میں سے دو بچے حضرت اقدس کے اہل بیت میں داخل ہو سکتے تھے۔تیسرے بہنوں بہنوں کو آپس میں ملنے جلنے میں دقت نہ ہوگی یہ خیالات تھے جو مجھ کو اس امر کیلئے محرک تھے۔سوم :۔مگر اس کے مقابلہ میں مجھ کو یہ خیال ڈراتا تھا کہ میرے لڑکوں کی عمر بڑی خصوصاً عبداللہ خاکسار مولف کو میاں محمد عبد اللہ خان صاحب نے ایک روایت 1960ء میں دی تھی جس میں مذکور تھا کہ حضرت مسیح موعود نے اس رشتہ کو پسند کیا تھا۔افسوس اس وقت وہ مجھے دستیاب نہیں ہو سکی۔