اصحاب احمد (جلد 12) — Page 38
38 احمدیوں کے بعض رشتے جو ہمارے سامنے پیش کئے گئے ہمیں بعض وجوہ سے پسند نہ تھے۔نواب موسیٰ خاں صاحب جو کہ نواب مزمل اللہ خاں صاحب سابق وائس چانسلر علی گڑھ یو نیورسٹی کے رشتہ داروں میں سے تھے اور شیروانی خاندان سے ہی ہیں اور عرصہ سے علی گڑھ جا کر آباد ہو چکے ہوں۔ان کی ایک لڑکی ہمارے خاندان میں مالیر کوٹلہ میں نواب صاحب والی مالیر کوٹلہ کے چھوٹے بھائی صاحبزادہ جعفر علی خاں صاحب سے بیاہی ہوئی تھی ان کی خواہش تھی کہ ہمارے رشتے ان کے ہاں ہوں۔چنانچہ میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب اور میرے رشتے کی گفتگو ہوئی۔والد صاحب کو خیال تھا کہ ریاست کے بعض اقارب جو اپنے ہاں رشتہ کرانے کے خواہشمند ہیں۔رشتہ زیر تجویز میں مزاحم ہوں گے اس لئے ابتداء میں ہی علی گڑھ لکھ دیا تھا۔کہ اگر آپ کسی مرحلہ پر ہمارے ان اقارب کے زیر اثر آئے تو سلسلہ جنبانی فوراً قطع کر دی جائے گی۔ہمارے رشتے طے ہو گئے۔سب سامان بنالیا گیا۔اور 1912 ء یا 1913ء میں قادیان سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ، صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور حضرت اماں جان (اطال اللہ بقائها ) مالیر کوٹلہ برات میں شامل ہونے کیلئے پہنچے۔ہم نے علی گڑھ جانا تھا حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے خطبہ نکاح پڑھنا تھا۔لیکن علی گڑھ سے اطلاع آئی کہ کچھ مہلت دی جائے۔لیکن والد صاحب نے بذریعہ تارانہیں اطلاع دے دی کہ رشتے منسوخ سمجھے جائیں۔کیونکہ والد صاحب کو یقینی وجوہ سے معلوم ہوا کہ وہ ان ہی اقارب کے زیر اثر آگئے ہیں۔ان اقارب میں سے کسی نے جو اپنے ہاں رشتہ کرنا چاہتے تھے۔ایک اہلکار کو علی گڑھ بھیجا کہ انہیں رشتہ کرنے سے رو کے (ان کی طرف سے بھی بعض قریبی رشتہ دار سخت مخالف ہو گئے تھے ) ہم سب طالب علم تھے تعطیلات ختم ہونے پر قادیان چلے آئے اور حضرت والد صاحب نے مالیر کوٹلہ سے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لکھا کہ میں پہلے بھی اس بات کا خواہشمند تھا کہ میرے لڑکوں کے رشتے احمدیوں کے ہاں ہوں تا کہ ان میں دینی جذ بہ قائم رہے اور وہ غیر احمد یوں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو مجھے نا پسند ہے اب جو یہ رشتے ٹوٹے ہیں مجھے اس کی وجہ سے بہت تکلیف ہوئی ہے۔ہم درس میں گئے تو میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب اور میاں محمد عبد الرحیم خان صاحب اور مجھے تینوں بھائیوں کو آپ نے مغرب کے بعد اپنے ہاں آکر ملنے کیلئے فرمایا۔ہم گئے۔تو آپ نے تین دفعہ فرمایا کہ مجھے تمہارے والد سے بڑی محبت ہے اور والد صاحب کا خط دکھایا اور کہا