اصحاب احمد (جلد 12) — Page 21
21 او ہام اور بے اصل بدعات شیعہ مذہب میں ملائی گئی ہیں اور جس قد ر تہذیب اور صلاحیت اور پاک باطنی کے مخالف ان کا عملدرآمد ہے ان سب باتوں سے بھی اپنے نور قلب سے فیصلہ کر کے انہوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔وہ اپنے ایک خط میں مجھ کو لکھتے ہیں کہ ابتداء میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے مؤید نہیں ہیں۔بلکہ مخالفان اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں۔مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار۔پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آ گیا اور ان پر غالب نہ ہوسکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے دعوے کئے ہیں۔یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے۔تب میں نے بطور آزمائش خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی۔۔لودہانہ ملنے گیا۔تو اس وقت میری تسکین خوب ہوگئی اور آپ کو ایک باخدا بزرگ پایا۔میں نے آپ سے بیعت کر لی۔اب میں اپنے آپ کو نسبتاً بہت اچھا پاتا ہوں اور آپ گواہ رہیں کہ میں نے تمام گنا ہوں سے آئندہ کیلئے تو بہ کی ہے۔آپ ایک بچے مجد داور دنیا کیلئے رحمت ہیں۔“ (ص787 تا790) آپ کی پہلی شادی آپ کی پہلی زوجہ محترمہ مہر النساء بیگم صاحبہ تھیں۔حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کے بطن سے اولاد نرینہ سے نواب صاحب کو نوازا۔میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب د میاں محمد عبد اللہ خان صاحب نے بیان کیا۔ہماری پھوپھیوں کے ہاں اولاد نہ تھی۔انہوں نے والد صاحب سے کہا کہ حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کیلئے عرض کریں۔نواب صاحب نے عرض کیا۔بعد ازاں حضور نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ مجھے گولیاں ملی ہیں کچھ میں نے مولوی نورالدین صاحب کو دے دیں۔کچھ آپ کو۔لیکن میں نے نواب عنایت علی خان صاحب ( خاوند بو فاطمہ بیگم صاحبہ ) کو تلاش کیا لیکن وہ نہ ملے۔اس وقت حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاں کئی لڑکے ہو کر فوت ہو چکے تھے۔اس کے بعد آپ کو نرینہ اولا دعطا ہوئی۔اسی طرح حضرت نواب صاحب کے ہاں دولڑ کیاں ہی ہوئی تھیں اور اس کے بعد نرینہ اولا د ہوئی۔لیکن نواب عنایت علی خاں صاحب کے ہاں ہماری پھوپھی فاطمہ بیگم صاحبہ کے بطن سے اولاد نہ ہوئی۔البتہ ایک دوسری بیگم کے بطن سے دولڑکیاں ہوئیں۔حضرت نواب صاحب