اصحاب احمد (جلد 12) — Page 201
201 دے دینا۔میں اس وقت حیران ہوئی کہ امی جان یہ کیوں دے رہی ہیں۔ابھی ایسی کیا چیز آنی ہے۔مگر بعد میں سمجھ گئی کہ یہ رقم انہوں نے کیوں دی تھی۔ان کی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ اپنے سرتاج کے آخری فرض کی ادائیگی میں کوئی اور شریک ہو۔عزیزم منیر احمد اور میرے میاں اس وقت یورپ گئے ہوئے تھے۔بڑے دامادوں میں سے صرف بھائی داؤ د احمد موجود تھے عزیزم عباس احمد اور دوسرے بھائیوں کو تو اس وقت ہوش نہ تھی۔غم سے کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔سب انتظام بھائی داؤ داحمد اور باقی عزیزوں نے جور بوہ سے آئے ہوئے تھے، سرانجام دیئے۔جنازہ ٹرک پر ربوہ لے جایا گیا۔اور تمام عزیز جور بوہ اور جابہ سے لاہور آ گئے تھے اور جماعت لا ہور کی ایک کثیر تعداد یہ سب جنازہ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ریڈیو پر اعلان ہو چکا تھا۔اردگرد کی جماعتوں کے کثیر افراد اور امرائے اضلاع ربوہ پہنچ چکے تھے۔دوسرے روز ہزاروں افراد کی دلی دعاؤں اور غمناک آنکھوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نہایت محبت کرنے والے داماد اور بہت شفیق باپ کو ان کی آخری آرامگاہ پر پہنچا دیا گیا۔اللہ تعالیٰ کی بیشمار برکتیں اور رحمتیں تا ابد آپ پر نازل ہوں۔ان کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔اور اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد کو صحیح رنگ میں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین 37۔ایک بیٹی کی نظر میں آپ کی صاحبزادی محترمہ طاہرہ صدیقہ ( بیگم صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب ) یہ عذر کرتے ہوئے کہ آپ نے کبھی کوئی مضمون نہیں لکھا۔اور خدا کرے آپ اپنے جذبات و تاثرات کا صحیح طور پر اظہار کر سکیں۔1948ء کے دل کے دورہ اور آخر تک علاج اور دعاؤں اور مرحوم کی سیرت کے متعلق تحریر کرتی ہیں۔” میرے پیارے ابا جان کو 1948ء میں دل کا شدید دورہ پڑا۔اس سے پہلے ابا جان کی صحت خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھی تھی۔ایک دن پہلے ہی ابا جان ، امی جان کو راولپنڈی میری بہن زکیہ بیگم ( بیگم مرزا داؤ د احمد صاحب) کے پاس چھوڑ کر آئے تھے۔تقسیم ملک کے بعد سے ابا جان ناظر اعلیٰ کے طور پر سلسلہ کا کام کر رہے تھے۔ان دنوں کے پُر مصائب حالات کی وجہ سے ابا جان کو بہت ہی زیادہ محنت اور جانفشانی سے کام کرنا پڑا۔قادیان چھٹنے کا غم اور تمام احمدی مہاجرین کی خستہ حالت