اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 169 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 169

169 لاہور میں موجود تھے اور تعداد میں آٹھ تھے صرف ایک لحاف تھا۔میں نے دوسرے دن حضرت مرحوم و مغفور سے اپنی حالت کا ذکر کیا۔تو انہوں نے فرمایا کہ میں ابھی اس کا انتظام کرتا ہوں۔اور یہ کہہ کر اندر تشریف لے گئے اور اپنا نہایت خوبصورت اور قیمتی اور اچھا خاصا بڑالحاف لا کر مجھے دے دیا۔اور خود حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ اماں جان! میرے پاس رات سونے کیلئے کوئی لحاف نہیں۔اماں جان نے فرمایا میاں تمہارا اپنا لحاف کیا ہوا؟ اُن کے اس جواب پر کہ میں نے وہ ملک صاحب ( یعنی اس عاجز ملک غلام فرید ) کو دے دیا ہے کہ ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔حضرت اماں جان نے اسی وقت اپنا لحاف حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کو دے دیا اور حضرت اماں جان کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مہیا کر دیا۔آج سے پچاس برس پہلے کی بات ہے کہ سید نا حضرت خلیفہ المسح اول رضی اللہ عنہ کی تحر یک پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے اپنے اخراجات کم کرنے کیلئے اپنے تینوں بیٹوں یعنی میاں عبد الرحمن خاں صاحب مرحوم و مغفور ، حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ اور میاں عبدالرحیم خان صاحب خالد کو 1911 ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل کروا دیا۔میاں محمد عبد اللہ خان صاحب اور میاں عبدالرحیم خان صاحب خالد ساتویں جماعت میں داخل ہوئے۔جس میں ان دنوں میں پڑھتا تھا۔ان دنوں حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی معاشرت کی یہ کیفیت تھی کہ یہ تینوں بھائی اپنی کوٹھی دار السلام سے جو قصبہ قادیان سے باہر تھی۔سکول میں جو ان دنوں قصبہ میں تھا۔نہایت خوبصورت اور قیمتی گھوڑیوں پر سوار ہو کر آیا کرتے تھے۔اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ان کا ذاتی خادم بھی ہوا کرتا تھا۔سکول میں داخل ہونے کے چند دن بعد حضرت نواب صاحب نے اس وقت کے سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب جناب مولوی صدر دین صاحب سے فرمایا کہ میرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کیلئے چند قابل اعتماد اور شریف طلباء میری کوٹھی پر بھجوا دیا کریں۔ان لڑکوں میں میرا انتخاب بھی ہوا۔اور اسی دن سے اس عاجز کے ساتھ میاں محمد عبداللہ خاں صاحب کا تعلق قائم ہوا جسے اس شہزادے نے کمال وفاداری سے پورے پچاس سال تک نباہا۔ان دنوں مجھے سید نا حضرت خلیفتر امسیح اول رضی اللہ عنہ کے قرآن کریم کے درسوں میں شامل ہونے کا بہت شوق تھا۔حضرت خلیفتہ امیج اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن کریم کے پبلک درس کے علاوہ جو حضور مسجد اقصیٰ میں نماز عصر کے بعد قادیان کی ساری جماعت کو دیا کرتے تھے۔ایک درس اپنے کچے مکان کے صحن میں مغرب کی