اصحاب احمد (جلد 12) — Page 157
157 لئے سفر میں دعا کرتے رہیں اور پھر ایک گرم شیروانی لا کر مجھے پہنا کر ہنستے ہوئے فرمایا کہ حیدر آباد میں شیروانی کا رواج ہے اور اس سے مبلغ کا وقار بھی بنا رہتا ہے۔وہاں شرفا کا یہی لباس ہے۔ایک دفعہ میں تبلیغی دورہ پر سندھ گیا۔آپ کے ہاں نصرت آباد اسٹیٹ پہنچا۔میرے قیام کا کمرہ اور آپ کی خواب گاہ ملحق تھی۔دونوں تہجد کیلئے بیدار ہوئے۔نماز فجر ا کٹھے ادا کی۔بعدۂ آپ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر باہر لے گئے۔اور باغیچہ میں ٹہلتے ہوئے اپنے ایک خاص مقصد کیلئے جو نہیں بتایا دعا کرنے کو کہا اور فر مایا کہ اگر خواب میں کچھ انکشاف ہو تو مجھے بتا ئیں۔شرمندگی سے عرض کیا کہ آپ کا مقام ارفع ہے۔میری حیثیت ہی کیا ہے فرمایا نہیں نہیں ! جو میں کہتا ہوں وہی کریں۔تہجد میں میں نے آہ وزاری سے دعا کی۔کہ ایک پاکباز بندے اور حضرت مسیح موعود کے پیارے نے مجھ گنہگار کو دعا کیلئے فرمایا ہے۔تو خوب جانتا ہے کہ میں کیا ہوں۔خواب میں دیکھا کہ نواب صاحب ، آپ کا مینیجر اور میں ایک وسیع میدان میں کھڑے ہیں جس میں پانی کی ایک صاف و شفاف نہر جاری ہے جو بالکل خط مستقیم میں سیدھی جارہی ہے۔نہر کے دوسری طرف گھاس کا وسیع قطعہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں یہ اراضی خریدنا چاہتا ہوں اسلم صاحب کیا میں خرید لوں؟ میرے لئے یہ کیسی رہے گی ؟ میں نے کہا کہ اراضی تو اچھی ہے بشرطیکہ آپ کا مینیجر دیانتداری سے کام کرے۔صبح بعد نماز پھر مجھے پکڑ کر باہر لے گئے اور فرمایا کہ دعا کی تھی۔یہ معلوم کر کے کہ کی تھی۔فوراً پوچھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے کیا بتایا۔خواب سنایا۔بہت خوش ہوئے اور فرمایا الحمد للہ میں اراضی ہی خرید کرنا چاہتا تھا اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ بتا دیا ہے کہ اراضی اچھی ہے۔آپ کی آخری طویل بیماری کے دوران مجھے قادیان کی زیارت کی اجازت ملی۔لیکن اخراجات آمد و رفت میرے پاس نہ تھے۔روانگی سے چند دن پہلے خواب میں ایک شخص کو ایک مکان پر نواب صاحب کا نام لے کر آوازیں دیتے دیکھا۔میں نے کہا کہ اب آپ کا نام بیٹی خاں ہے اس نام سے آواز دو۔چنانچہ وہ اس نام سے آواز میں دینے لگا۔مجھے اس کی یہ تعبیر سمجھ آئی۔کہ آپ ابھی بہت عرصہ زندہ رہیں گے۔چنانچہ آپ بعد ازاں آٹھ نو سال زندہ رہے حضرت نواب صاحب نے میرا خواب کا رقعہ پڑھ کر تمیں روپے اور آپ کے اہل بیت نے ہمیں رو پے مجھے بھجوا دئیے اس طرح میں سفر قا دیان کر سکا۔“