اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 142 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 142

142 علیحدگی اختیار کر لی۔نواب بازید خاں ان کے اور ہمارے جد امجد تھے اور ہمارے دونوں گھرانے نواب بازید خاں کی اولاد ہیں۔اور پھوپھا جان نواب محمد علی خانصاحب کی ایک بہن محترمہ حسینی بیگم صاحبہ ہمارے ایک تا یا صاحب کے نکاح میں تھیں اور بھی بہت سے رشتے آپس میں مدت سے چلے آرہے تھے پھوپھا جان کی ایک بہن محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ والد صاحب مرحوم کی خالہ زاد بہن ہونے کے علاوہ والد صاحب قبلہ کی ساس بھی لگتی تھیں۔چونکہ ہمارے والد کی شادی ان کی سوتیلی بیٹی محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ بنت نواب عنایت علی خان صاحب سے ہی ہوئی تھی۔اور بچپن میں جب والد صاحب قبلہ کی دس سال کی عمر تھی۔ہمارے دادا صاحب خان بہاول خان صاحب کا انتقال ہو گیا تھا۔اس وقت پھوپھا جان کی عمر 19 سال کی تھی۔چنانچہ والد صاحب کی سرپرستی اور تعلیم کی نگرانی محترم پھوپھا جان نے اپنے خالو اور خسر کے انتقال کے فوراً بعد اپنے ذمہ لے لی ان بہت سارے خونی اور جدی رشتوں کے علاوہ نو جوانی کی یکجائی نے دونوں کو اس قدر ایک دوسرے سے مانوس اور قریب کر دیا تھا اور اس درجہ محبت تھی کہ پھوپھا جان کے ذریعہ سے ہی والد صاحب محترم بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔مالیر کوٹلہ کے افغانوں کے شیروانی خاندان میں صرف حضرت نواب صاحب اور والد ماجد کے دو ہی گھرانے احمدیت پر قائم رہے۔الحمد للہ بہت سے دیگر عزیز احمدی ہوئے تھے مگر ان کو استقامت حاصل نہ ہوئی اور اکثر نے تعلق چھوڑ دیا۔یہاں تک کہ قبلہ پھوپھا جان کے سگے بھائی نواب سر ذوالفقار علی خان صاحب مرحوم کے گھر میں بھی احمدیت داخل نہ ہوسکی۔حالانکہ وہ ان کو بہت اہتمام سے تبلیغ فرماتے رہے۔والد محترم کی قادیان میں اراضی تھی جو کہ انہوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم سے خریدی تھی اور سٹیشن قریب ہونے اور شہر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے وہ زرعی سے سکنی بن گئی تھی۔اس اراضی کی فروخت کا والد صاحب نے اشتہار دیا تو معلوم ہوا کہ بھائی جان مرحوم بھی اس کو خریدنے کے خواہش مند ہیں۔مجھے یاد ہے اس زمانہ میں ہمارے پھوپھا جان حضرت نواب محمد علی صاحب بیمار تھے۔(والد صاحب کے وہ سگے خالہ زاد بھائی بھی تھے اور سگے بہنوئی بھی یعنی ہماری دوستگی پھوپھیاں ان کے نکاح میں آئیں ) جب والد صاحب کو پھوپھا جان کی بیماری کی خبر دہلی میں ملی۔تو وہ اس قدر بے چین ہوئے کہ فوراً قادیان روانہ ہو گئے خاکسار بھی ہمراہ