اصحاب احمد (جلد 12) — Page 132
132 رجوع کرتے اور اپنے دوستوں کو بھی نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی درخواست کرتے۔یہ آپ کے ایمان کا تقاضا ہوتا۔جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے آپ کے اندر پیدا فرمایا تھا۔آپ دعاؤں میں بہت تضرع اور زاری سے کام لیتے تھے۔آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا بڑا مزا لے کر ذکر کرتے رہتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لخت جگر سے آپ کی شادی نے خاص طور پر آپ میں جذبات تشکر و امتنان پیدا کئے۔کئی دفعہ آپ اظہار شکر میں آبدیدہ ہو جاتے۔آپ ہمیشہ فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اس تعلق کی وجہ سے آپ پر دونوں طور سے بڑے فضل فرمائے ہیں دینی طور سے بھی اور دنیوی لحاظ سے بھی۔آپ کی صالحیت عنفوان شباب سے ہی آپ کے چہرہ پر پورے طور سے نمایاں تھی آپ کے تقویٰ کا اظہار آپ کے ہر کام سے ہوتا۔میں نے ہمیشہ آپ کو تقویٰ پر قائم دیکھا۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ آپ مہمان نوازی کا اعلیٰ جذبہ رکھتے تھے۔جب بھی ملتے یہی خواہش فرماتے کہ ساتھ چلیں اور چائے یا کھانے میں شریک ہوں۔قادیان میں میں عام طور پر شہر والے نئے مہمان خانہ میں رہتا تھا۔آپ اس زمانہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی کوٹھی دار الحمد میں اقامت پذیر تھے۔ایک مرتبہ آپ نے میرا سامان و ہیں منگوالیا۔مہمان نوازی کا پورا حق ادا فرماتے۔ایک شام کو میں گورداسپور سے آیا تو سردی زیادہ تھی۔مجھے گرم جرابوں کی ضرورت نہ ہوتی تھی اور آپ کیلئے یہ بات جائے تعجب تھی۔آپ اسی وقت اندر سے ایک نیا عمدہ گرم جرابوں کا جوڑا لائے اور فرمانے لگے کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے آپ کے پاؤں میں ڈالنی ہیں۔میں نے ہر چند انکار کیا لیکن آپ کی بات ماننی پڑی اور آپ نے خود وہ جوڑا اس عاجز کو پہنایا۔یہ عجیب شفقت اور عاجزی کا اظہار تھا۔اللہ تعالیٰ آپ پر بے انتہا فضل فرمائے۔ایک دو ماہ تک ہر ہفتہ آپ کے پاس رہنے کے بعد میں نے عذر کیا۔کہ چونکہ سلسلہ کے بعض کام میرے سپرد ہیں۔اور دوستوں کو دور آنے میں تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے مجھے مہمان خانہ میں ہی واپس جانے کی اجازت دیں۔آپ نے بہت تامل کے بعد اجازت عطا فرمائی۔لیکن اس کے بعد بھی ہمیشہ دعوتوں کا سلسلہ جاری رہا اور اس میں بہت خوشی محسوس کرتے۔